زیادہ نقدی کا استعمال سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کا اشارہ دیتا ہے. ویلتھ پاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 جون ۔2025 )پاکستان میں نقدی کے استعمال کی اعلی سطح ماہرین اقتصادیات میں تشویش پیدا کر رہی ہے، جو خبردار کرتے ہیں کہ یہ رجحان ایسے وقت میں قرض کی دستیابی کو کم کر رہا ہے اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ ڈال رہا ہے جب کہ ملک میں کرنسی کی سپلائی پہلے ہی سکڑ رہی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 25 کی پہلی ششماہی میں براڈ منی میں 0.
(جاری ہے)
ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق یہ کمی بنیادی طور پر خالص ملکی اثاثوں میں تیزی سے گراوٹ کی وجہ سے ہوئی ہے، اس کے باوجود کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس اور بہتر ذخائر کی وجہ سے خالص غیر ملکی اثاثوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گردش میں مسلسل بلند کرنسی ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے پاکستان بدستور ان ممالک میں درجہ بندی کر رہا ہے جہاں نقد سے جی ڈی پی کا تناسب سب سے زیادہ ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ساختی ناکارہیاں اور باضابطہ بینکنگ سسٹم میں اعتماد کی کمی دونوں کو ظاہر کرتا ہے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ماہر معاشیات ڈاکٹر نادیہ صفدر نے کہا کہ نقد لین دین کو زیادہ ترجیح دینا کریڈٹ ٹرانسمیشن میکانزم کو کمزور کر دیتا ہے جب لوگ بینکوں میں جمع کرنے کے بجائے نقد رقم رکھتے ہیں، قرض کے قابل فنڈز کا پول سکڑ جاتا ہے، کاروباری کریڈٹ کو محدود کرتا ہے اور اقتصادی ترقی کو سست کر دیتا ہے کرنسی ان سرکولیشن میں معمولی کمی، صرف 37 بلین روپے، پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران دیکھی گئی 697 بلین کی کمی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی درحقیقت نقدی کے استعمال میں نئے سرے سے اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی ایک وجہ سود کی گرتی ہوئی شرح اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خوردہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہے. انہوں نے کہاکہ ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو کی حد کو پورا کرنے کے لیے بینکوں کی کوششوں نے بھی ایک کردار ادا کیا، جس میں کچھ مختصر طور پر بڑے ڈپازٹس پر سروس چارجز متعارف کرائے گئے، جس سے نقد رقم نکالنے کا اشارہ ہوا. اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ٹیکس چوری، کمزور ڈیجیٹل ادائیگی کو اپنانا، اور غیر رسمی شعبے کے غلبہ جیسے گہری جڑوں والے ساختی مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، نقد کا زیادہ استعمال رسمی کریڈٹ کی توسیع اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر ایک ڈراگ کے طور پر کام کرتا رہے گا ڈاکٹر صفدر کے مطابق اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے مالیاتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ڈیجیٹل اور رسمی لین دین کو ترغیب دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ مالیاتی شمولیت کی طرف ثقافتی اور ساختی تبدیلی کے بغیر، پاکستان کی معاشی بحالی کم اور ناہموار رہے گی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔