پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو اب 24 جون 2025 کی صبح 5 بج کر 29 منٹ تک مؤثر رہے گی۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹم (NOTAM) 24 مئی کو ختم ہونا تھا، تاہم دونوں ملکوں نے باہمی طور پر یہ بندش برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے انکشاف کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنی فضائی حدود سال بھر کے لیے بند رکھی تو ایئر انڈیا کو تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ حکومت نے تمام ایئرلائنز سے کہا ہے کہ وہ فضائی حدود کی بندش کے باعث ہونے والے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگائیں۔ ایئر انڈیا کے مطابق پروازوں کو متبادل اور طویل راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے پرواز کا وقت، ایندھن کی کھپت اور لاگت بڑھ گئی ہے، جو براہ راست آمدنی کو متاثر کر رہا ہے۔

کیمبل ولسن نے بتایا کہ ‘آپریشن سندور’ کے بعد جب پاکستان نے فضائی حدود بند کی تو ایئر انڈیا کو 13 شہروں کے ہوائی اڈے بند کرنا پڑے تھے، جس کے باعث ایک ہزار کے قریب پروازیں منسوخ ہوئیں اور سات ہزار سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔

فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے ایئر انڈیا ہی نہیں، دیگر بڑی ایئرلائنز بھی اسی طرح کی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر پاکستان نے طویل مدت تک فضائی حدود بند رکھی تو یہ کمپنیاں بھی بڑے مالیاتی نقصانات سے دوچار ہوں گی۔ ایئر لائنز نے متبادل راستوں کی تجاویز بھی دی ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے، اور مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ ورک پلاننگ کو زیادہ لچکدار بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایئر انڈیا پاکستان نے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی