سیکنڑوں کلومیٹرز مفت میں بری، بحری اور فضائی سفر کرنے والا سیہ بالآخر پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
ایک سیہ (خارپشت) نے کینیڈین صوبے برٹش کولمبیا کے شہر مکینزی سے کیلونا تک ہیلی کاپٹر، کشتی اور ٹریلر پر مفت میں سیر کرتا رہا تاہم تقریباً ساڑھے 800 کلومیٹر کے سفر کے بعد اس کی اس حرکت کا پتا لگا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بلیاں بو سونگھ کر مالک اور اجنبی میں فرق کرسکتی ہیں؟
برٹش کولمبیا میں وائلڈ لائف ریسکیورز اب اس سیہ کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جو ایک تباہ شدہ طیارے ملبے میں مزے سے بیٹھا رہا جسے ہیلی کاپٹر، کشتی اور ٹریلر کے ذریعے کیلونا پہنچایا جا رہا تھا۔
انٹیرئیر وائلڈ لائف ری ہیبلیٹیشن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ٹراسپورٹ کی گئی گاڑیوں سے گلہریوں کو ہٹانے کے لیے اس سے اکثر رابطہ کیا جاتا ہے لیکن ہوائی جہاز میں سیہ کی موجودگی ایک منفرد صورتحال تھی۔
انٹیرئیر وائلڈ لائف نے کہا کہ ملبے کی بازیابی کرنے والی ایک کمپنی نے تباہ شدہ طیارے کو میکنزی سے کیلونا تک پہنچایا جو کہ تقریباً ساڑھے 800 کلومیٹرز بنتا ہے جس کے لیے ہیلی کاپٹر، کشتی اور ٹریلر استعمال کیے گئے۔
مزید پڑھیے: گھرمیں بحری جہاز گھس آیا لیکن مالک بے خبر سوتا رہا
جب کیلونا میں ملبے کو اتارا جا رہا تھا تب پتا چلا کہ پائلٹ کی سیٹ کے نیچے ایک سیہ چھپا بیٹھا ہے۔
وائلڈ لائف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اپنے معاون ویٹرنریرین کی مدد سے ہم نے انجیکشن کے ذریعے سیہ کو ہلکاسا بے ہوش کیا اور پھر ہم نے اسے کچھ منٹ بعد بازوؤں سے پکڑ کر آہستہ سے سیٹ کے نیچے سے باہر نکالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سیہ کو کمبل ڈال کر نہیں پکڑا تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔
ریسکیو گروپ جنگلی حیات کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ پورکیوپین کو دوبارہ جنگل میں چھوڑنے کے لیے بہترین جگہ کا تعین کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برٹش کولمبیا خارپشت سفر کا شوقین سیہ سیہ کینیڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برٹش کولمبیا سفر کا شوقین سیہ سیہ کینیڈا وائلڈ لائف کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔