وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ غزہ ریلیف فاؤنڈیشن فلسطینیوں کو غذائی امداد پہنچانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امداد کے انتظار میں کھڑے افراد پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو یوکرین کے ڈرون حملے سے قبل روس پر حملے سے متعلق علم نہیں تھا، تاہم وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے کسی ممکنہ حل کے لیے پُرامید ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کب تک ممکن ہے؟ ٹرمپ کے سابق مشیر نے بڑا دعویٰ کردیا

انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ آئندہ نیٹو اجلاس میں شرکت کریں گے، اور اس وقت امریکا کئی ممالک کے ساتھ سازگار تجارتی معاہدوں میں مصروف ہے۔

ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایران کو جوہری معاہدے سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے۔ اگر ایران نے یہ تجویز مسترد کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ روس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس وائٹ ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو