Jang News:
2026-07-24@07:37:47 GMT

ثنا یوسف نے قاتل سے آخری گفتگو میں کیا کہا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

ثنا یوسف نے قاتل سے آخری گفتگو میں کیا کہا؟

— تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

مقتولہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کی اپنے قاتل سے ہونے والی آخری گفتگو سامنے آگئی، جو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مارنے سے قبل ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق 22 سالہ ٹک ٹاکر عمر حیات عرف کاکا ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، جس کےلیے وہ بار بار رابطہ کر رہا تھا لیکن ثناء یوسف کے انکار پر طیش میں آکر اسے گولی مار دی۔

عینی شاہدین کے بیانات اور مختلف قریبی ذرائع کے مطابق آخری ملاقات کے دوران ثناء یوسف اس صورت حال کو یہ کہتے ہوئے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ’تمہیں غصہ آرہا ہے، یہاں سے چلے جاؤ، یہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں، جاؤ یہاں سے‘۔

اس کے بعد عمر نے ثناء یوسف پر گولی چلا دی اور جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا واقعہ 2 جون کو جی 13 ون میں پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ والدہ کی مدعیت میں تھانہ سنمبل میں درج کیا گیا۔

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج

اسلام آباد کی ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام 5 بجے حملہ آور گھر میں داخل ہوا اور ثناء یوسف پر فائرنگ کی۔ 2 گولیاں ثناء یوسف کے سینے میں لگیں، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق ثناء یوسف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ثناء یوسف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگئی۔

بعدازاں اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ ثناء یوسف کے قاتل گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو سی سی ٹی وی ویڈیو اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر ثناء یوسف ثناء یوسف کے کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟