Daily Ausaf:
2026-06-03@05:14:04 GMT

بھارتی انتخابات اور پاکستان سے کشیدگی ؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

بھارت نے 15 اگست 1947 ء کو آزادی حاصل کرنے کے بعد سے باقاعدگی سے انتخابات منعقد کیے ہیں تاہم جب ہم بھارت کی انتخابی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو ایک تشویشناک رجحان سامنے آتاہے۔ خارجی خطرات خصوصاً پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوادیناتاکہ قوم پرستی کےجذبات کو ابھار کر ووٹ حاصل کیےجاسکیں۔یہ انتخابی حکمت عملی نہ صرف بھارت کےسیاسی نتائج پراثراندازہوئی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کو بھی مسلسل عدم استحکام سے دوچارکیا ہے۔بھارت کےپہلے عام انتخابات 25 اکتوبر1951ء سے 21 فروری 1952ء تک ہوئے، جو وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو کی قیادت میں منعقد ہوئے۔یہ ایک نئی آزاد، نوآبادیاتی اور اکثریتی طور پرناخواندہ قوم کےلیےایک عظیم جمہوری کارنامہ تھا۔ اگرچہ ابتدائی دہائیوں میں انڈین نیشنل کانگریس غالب رہی،لیکن سیاسی مفادپرستی کے بیج وہیں بودیئےگئے تھے۔جیسے جیسے داخلی مسائل بڑھتے گئے،خارجی خطرات خصوصاً پاکستان کا سہارالینےکا رجحان بھی بڑھتاگیاتاکہ انتخابی فائدے حاصل کیے جا سکیں۔
پہلا بڑاموقع 1965ء کی بھارت‘ پاکستان جنگ تھی، جو 6 ستمبر 1965 ء کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر 1965 ء کو جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ وزیر اعظم لال بہادر شاستری اس جنگ کے بعدجئے ’’جوان، جئے کسان‘‘ کے نعرے کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر اُبھرے۔ اگرچہ وہ 11 جنوری 1966 ء کو تاشقند میں پراسرار طور پرانتقال کرگئےلیکن کانگریس پارٹی نےاس جنگی قوم پرستی کی لہر کو 1967 کےعام انتخابات میں اپنے حق میں استعمال کیا۔اسی طرح 1971ء کی جنگ، 3 دسمبر 1971ء کو شروع ہوئی اور 16دسمبر 1971ء کو پاکستان کی ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے پرختم ہوئی،ایک اوراہم موڑتھا۔ وزیراعظم اندراگاندھی نےاس جنگی فتح کو اپنی مقبولیت بڑھانے کےلیے استعمال کیااورانہیں بھارت کی آئرن لیڈی کے طور پرپیش کیاگیا۔ 1972ء کےریاستی انتخابات اور1977ء میں ایمرجنسی کےبعد ہونےوالے انتخابات میں بھی اس جنگی ہیرو ازم کو بارباردہرایا گیا، اگرچہ اس دور میں آمرانہ رجحانات بھی نمایاں تھے۔جب 1990ء کی دہائی میں بی جے پی نے ابھارحاصل کیاتو پاکستان مخالف بیانیہ انتخابات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ کارگل جنگ (3 مئی تا 26 جولائی 1999) بی جے پی کی زیر قیادت اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کےدوران ہوئی،جو مئی 1998ء کےایٹمی تجربات اور 21 فروری 1999ء کےلاہور اعلامیہ کےفوراً بعدتھی۔ انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باوجود، بی جے پی نے 1999ء کےعام انتخابات جیت لیےکیونکہ وہ قوم پرستی کےجذبات کواپنےحق میں موڑنے میں کامیاب رہی۔
ایک افسوسناک اورسیاسی رنگ لیے واقعہ 26 نومبر 2008ء کےممبئی حملے تھے، جن میں مسلح افراد نے بیک وقت کئی مقامات پر حملے کیے ، جن میں تاج محل ہوٹل بھی شامل تھا، اور 100سےزائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اگرچہ فوراً پاکستان میں موجود گروہوں پر الزام لگا دیا گیا، لیکن ان حملوں کے وقت اورطریقہ کار نےبھارتی سیاست پرگہرے اثرات ڈالے۔ 2009 کے انتخابات سےقبل، کانگریس کی زیرقیادت یوپی اےحکومت نے سخت رویہ اپنایا، عوامی غصے سے فائدہ اٹھایااوراس سانحےکو قومی سلامتی کی اپیل میں بدل دیا۔ جذباتی فضا اور میڈیا کےذریعے بھڑکائی گئی قوم پرستی نےاندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹاکرحکمران اتحاد کو کامیابی دلوائی ۔ شاید سب سےنمایاں مثال فروری 2019ء کےپلوامہ حملےکی ہےجس میں 14 فروری 2019ء کوکشمیرمیں بھارتی نیم فوجی دستے کے 40 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ 26 فروری کو بھارت نے بالاکوٹ پر فضائی حملے کیےاور 27 فروری کوپاکستان نےجوابی کارروائی میں بھارتی طیارہ گرایااورپائلٹ کو گرفتارکیا۔ یہ واقعہ پوری طرح سےسیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ نریندر مودی نےاپنی 2019ء کی انتخابی مہم کو مکمل طورپرقومی سلامتی کے گرد گھمایا، اوربی جے پی کو زبردست اکثریت سے کامیابی ملی۔تازہ ترین اورممکنہ طورپرسب سے خطرناک پیشرفت 7مئی 2025ء کو دیکھنے میں آئی، جب بھارت اورپاکستان کےدرمیان ایک روزہ جنگ چھڑگئی۔ کئی ہفتوں سےکشیدگی بڑھ رہی تھی، بھارت کی جانب سےاشتعال انگیز بیانات اورفوجی چالیں دیکھی گئیں۔ 7مئی کی صبح بھارتی طیاروں نےلائن آف کنٹرول عبور کی، جس پرپاکستان نےجوابی کارروائی کی۔ یہ جنگ 24 گھنٹے سے کم رہی مگردرجنوں جانیں لے گئی اور دونوں ایٹمی طاقتوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
اہم بات یہ ہےکہ یہ جنگ بھارت کے عام انتخابات (19 اپریل تا 7 مئی 2025) کے آخری مرحلے سےمکمل طورپر متصادم تھی۔ وقت کاتعین ظاہرکرتاہےکہ حکمران جماعت،جو معاشی سست روی ،مہنگائی، سماجی بےچینی اورکسانوں کی خود کشیوں پرتنقید کاسامنا کر رہی تھی، ایک بار پھر پرانے ہتھکنڈے پر اتری،پاکستان کےساتھ جنگ جیسی صورتحال پیدا کر کے عوام کی توجہ ہٹانااور جذبات کو ابھارنا۔یہ رجحان واضح اورخطرناک ہے ۔جب بھی داخلی کارکردگی ووٹرزکوقائل کرنےمیں ناکام ہو،پاکستان کوقومی سلامتی کا دشمن قراردےکر ووٹ بٹورےجاتے ہیں۔ میڈیا،جو اکثر ریاست کے زیراثرہوتا ہے،ہیجان انگیزخبریں پھیلانا شروع کر دیتا ہے اورجذباتی بیانیےمعیشت،روزگاراور گورننس جیسےحقیقی مسائل کوپس منظرمیں دھکیل دیتےہیں۔ یہ قلیل مدتی سیاسی فائدہ،طویل مدتی علاقائی امن اور جمہوری اقدار کی قیمت پرحاصل کیا جاتا ہے۔
14اگست 1947 کوجب پاکستان نے آزادی حاصل کی، اس کے بعدسے برصغیر میں تین بڑی جنگیں (1948، 1965، 1971)، ایک محدودجنگ (1999)،متعدد جھڑپیں اورسرحدی تنازعات رونماہوچکے ہیں۔ یہ سب نہ صرف زخم چھوڑ گئے بلکہ وسائل بھی کھا گئے اور عدم اعتماد کو بڑھاوادیالیکن جب جنگ کوانتخابی ہتھیار بنا لیا جائے تو علاقائی استحکام کا خطرہ وجودی بن جاتاہے۔ 7 مئی 2025کی ایک روزہ جنگ اس حکمت عملی کاسب سےافسوسناک استعمال ہےلہٰذا، بھارتی انتخابات کو محض ان کی وسعت یا تعدادکے لحاظ سےنہیں بلکہ اس رجحان کے پس منظر میں بھی دیکھناچاہیےکہ کس طرح قوم پرستانہ جنگی جنون ان پر غالب آچکا ہے۔ 1971ء کی جنگ سےلےکر 2008ء کےممبئی حملے، 2019ء کا بالاکوٹ واقعہ، اوراب 2025ء کی مختصر جنگ،ایک بات مشترک ہےکہ پاکستان کو دشمن بناکر ووٹ حاصل کرنا،نتیجہ ایک ایسی جمہوریت جوکارکردگی،ترقی یاانصاف پرنہیں بلکہ انتشار اور خوف پر پنپتی ہے۔جنوبی ایشیا اس سے بہترکا مستحق ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ چکر توڑا جائےاور ووٹ نفرت کےبجائے امیدکے لیےڈالے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: قوم پرستی حاصل کی

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی