Daily Ausaf:
2026-07-24@13:53:42 GMT

بھارتی انتخابات اور پاکستان سے کشیدگی ؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

بھارت نے 15 اگست 1947 ء کو آزادی حاصل کرنے کے بعد سے باقاعدگی سے انتخابات منعقد کیے ہیں تاہم جب ہم بھارت کی انتخابی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو ایک تشویشناک رجحان سامنے آتاہے۔ خارجی خطرات خصوصاً پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوادیناتاکہ قوم پرستی کےجذبات کو ابھار کر ووٹ حاصل کیےجاسکیں۔یہ انتخابی حکمت عملی نہ صرف بھارت کےسیاسی نتائج پراثراندازہوئی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کو بھی مسلسل عدم استحکام سے دوچارکیا ہے۔بھارت کےپہلے عام انتخابات 25 اکتوبر1951ء سے 21 فروری 1952ء تک ہوئے، جو وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو کی قیادت میں منعقد ہوئے۔یہ ایک نئی آزاد، نوآبادیاتی اور اکثریتی طور پرناخواندہ قوم کےلیےایک عظیم جمہوری کارنامہ تھا۔ اگرچہ ابتدائی دہائیوں میں انڈین نیشنل کانگریس غالب رہی،لیکن سیاسی مفادپرستی کے بیج وہیں بودیئےگئے تھے۔جیسے جیسے داخلی مسائل بڑھتے گئے،خارجی خطرات خصوصاً پاکستان کا سہارالینےکا رجحان بھی بڑھتاگیاتاکہ انتخابی فائدے حاصل کیے جا سکیں۔
پہلا بڑاموقع 1965ء کی بھارت‘ پاکستان جنگ تھی، جو 6 ستمبر 1965 ء کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر 1965 ء کو جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ وزیر اعظم لال بہادر شاستری اس جنگ کے بعدجئے ’’جوان، جئے کسان‘‘ کے نعرے کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر اُبھرے۔ اگرچہ وہ 11 جنوری 1966 ء کو تاشقند میں پراسرار طور پرانتقال کرگئےلیکن کانگریس پارٹی نےاس جنگی قوم پرستی کی لہر کو 1967 کےعام انتخابات میں اپنے حق میں استعمال کیا۔اسی طرح 1971ء کی جنگ، 3 دسمبر 1971ء کو شروع ہوئی اور 16دسمبر 1971ء کو پاکستان کی ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے پرختم ہوئی،ایک اوراہم موڑتھا۔ وزیراعظم اندراگاندھی نےاس جنگی فتح کو اپنی مقبولیت بڑھانے کےلیے استعمال کیااورانہیں بھارت کی آئرن لیڈی کے طور پرپیش کیاگیا۔ 1972ء کےریاستی انتخابات اور1977ء میں ایمرجنسی کےبعد ہونےوالے انتخابات میں بھی اس جنگی ہیرو ازم کو بارباردہرایا گیا، اگرچہ اس دور میں آمرانہ رجحانات بھی نمایاں تھے۔جب 1990ء کی دہائی میں بی جے پی نے ابھارحاصل کیاتو پاکستان مخالف بیانیہ انتخابات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ کارگل جنگ (3 مئی تا 26 جولائی 1999) بی جے پی کی زیر قیادت اٹل بہاری واجپائی کی حکومت کےدوران ہوئی،جو مئی 1998ء کےایٹمی تجربات اور 21 فروری 1999ء کےلاہور اعلامیہ کےفوراً بعدتھی۔ انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باوجود، بی جے پی نے 1999ء کےعام انتخابات جیت لیےکیونکہ وہ قوم پرستی کےجذبات کواپنےحق میں موڑنے میں کامیاب رہی۔
ایک افسوسناک اورسیاسی رنگ لیے واقعہ 26 نومبر 2008ء کےممبئی حملے تھے، جن میں مسلح افراد نے بیک وقت کئی مقامات پر حملے کیے ، جن میں تاج محل ہوٹل بھی شامل تھا، اور 100سےزائد افرادجاں بحق ہوئے۔ اگرچہ فوراً پاکستان میں موجود گروہوں پر الزام لگا دیا گیا، لیکن ان حملوں کے وقت اورطریقہ کار نےبھارتی سیاست پرگہرے اثرات ڈالے۔ 2009 کے انتخابات سےقبل، کانگریس کی زیرقیادت یوپی اےحکومت نے سخت رویہ اپنایا، عوامی غصے سے فائدہ اٹھایااوراس سانحےکو قومی سلامتی کی اپیل میں بدل دیا۔ جذباتی فضا اور میڈیا کےذریعے بھڑکائی گئی قوم پرستی نےاندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹاکرحکمران اتحاد کو کامیابی دلوائی ۔ شاید سب سےنمایاں مثال فروری 2019ء کےپلوامہ حملےکی ہےجس میں 14 فروری 2019ء کوکشمیرمیں بھارتی نیم فوجی دستے کے 40 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ 26 فروری کو بھارت نے بالاکوٹ پر فضائی حملے کیےاور 27 فروری کوپاکستان نےجوابی کارروائی میں بھارتی طیارہ گرایااورپائلٹ کو گرفتارکیا۔ یہ واقعہ پوری طرح سےسیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ نریندر مودی نےاپنی 2019ء کی انتخابی مہم کو مکمل طورپرقومی سلامتی کے گرد گھمایا، اوربی جے پی کو زبردست اکثریت سے کامیابی ملی۔تازہ ترین اورممکنہ طورپرسب سے خطرناک پیشرفت 7مئی 2025ء کو دیکھنے میں آئی، جب بھارت اورپاکستان کےدرمیان ایک روزہ جنگ چھڑگئی۔ کئی ہفتوں سےکشیدگی بڑھ رہی تھی، بھارت کی جانب سےاشتعال انگیز بیانات اورفوجی چالیں دیکھی گئیں۔ 7مئی کی صبح بھارتی طیاروں نےلائن آف کنٹرول عبور کی، جس پرپاکستان نےجوابی کارروائی کی۔ یہ جنگ 24 گھنٹے سے کم رہی مگردرجنوں جانیں لے گئی اور دونوں ایٹمی طاقتوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
اہم بات یہ ہےکہ یہ جنگ بھارت کے عام انتخابات (19 اپریل تا 7 مئی 2025) کے آخری مرحلے سےمکمل طورپر متصادم تھی۔ وقت کاتعین ظاہرکرتاہےکہ حکمران جماعت،جو معاشی سست روی ،مہنگائی، سماجی بےچینی اورکسانوں کی خود کشیوں پرتنقید کاسامنا کر رہی تھی، ایک بار پھر پرانے ہتھکنڈے پر اتری،پاکستان کےساتھ جنگ جیسی صورتحال پیدا کر کے عوام کی توجہ ہٹانااور جذبات کو ابھارنا۔یہ رجحان واضح اورخطرناک ہے ۔جب بھی داخلی کارکردگی ووٹرزکوقائل کرنےمیں ناکام ہو،پاکستان کوقومی سلامتی کا دشمن قراردےکر ووٹ بٹورےجاتے ہیں۔ میڈیا،جو اکثر ریاست کے زیراثرہوتا ہے،ہیجان انگیزخبریں پھیلانا شروع کر دیتا ہے اورجذباتی بیانیےمعیشت،روزگاراور گورننس جیسےحقیقی مسائل کوپس منظرمیں دھکیل دیتےہیں۔ یہ قلیل مدتی سیاسی فائدہ،طویل مدتی علاقائی امن اور جمہوری اقدار کی قیمت پرحاصل کیا جاتا ہے۔
14اگست 1947 کوجب پاکستان نے آزادی حاصل کی، اس کے بعدسے برصغیر میں تین بڑی جنگیں (1948، 1965، 1971)، ایک محدودجنگ (1999)،متعدد جھڑپیں اورسرحدی تنازعات رونماہوچکے ہیں۔ یہ سب نہ صرف زخم چھوڑ گئے بلکہ وسائل بھی کھا گئے اور عدم اعتماد کو بڑھاوادیالیکن جب جنگ کوانتخابی ہتھیار بنا لیا جائے تو علاقائی استحکام کا خطرہ وجودی بن جاتاہے۔ 7 مئی 2025کی ایک روزہ جنگ اس حکمت عملی کاسب سےافسوسناک استعمال ہےلہٰذا، بھارتی انتخابات کو محض ان کی وسعت یا تعدادکے لحاظ سےنہیں بلکہ اس رجحان کے پس منظر میں بھی دیکھناچاہیےکہ کس طرح قوم پرستانہ جنگی جنون ان پر غالب آچکا ہے۔ 1971ء کی جنگ سےلےکر 2008ء کےممبئی حملے، 2019ء کا بالاکوٹ واقعہ، اوراب 2025ء کی مختصر جنگ،ایک بات مشترک ہےکہ پاکستان کو دشمن بناکر ووٹ حاصل کرنا،نتیجہ ایک ایسی جمہوریت جوکارکردگی،ترقی یاانصاف پرنہیں بلکہ انتشار اور خوف پر پنپتی ہے۔جنوبی ایشیا اس سے بہترکا مستحق ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ چکر توڑا جائےاور ووٹ نفرت کےبجائے امیدکے لیےڈالے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: قوم پرستی حاصل کی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا