لارڈ قربان حسین کی کشمیر میں بھارتی مظالم، سندھ طاس معاہدہ معطلی اور بھارتی جارحیت پر کڑی تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 24 July, 2025 سب نیوز

لندن (آئی پی ایس) لندن میں برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے اہم اجلاس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی بحث کے دوران اجلاس میں اراکین نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور آبی بحران پر برطانیہ سے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر لارڈ قربان حسین نے اپنے خطاب میں کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا سب سے پرانا تنازع اور پاک بھارت کشیدگی کی بنیاد ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ علاقہ بن چکا ہے۔

لارڈ قربان حسین نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں جنہیں آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ ایمنسٹی اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی مظالم سے اب تک ایک لاکھ کشمیری قتل ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی اور لاپتہ ہیں، اور ہزاروں کشمیری بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید ہیں، جس پر عالمی انسانی حقوق تنظیمیں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج غیر قانونی حراستوں، تشدد، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی زیادتیوں، جعلی مقابلوں اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین جرائم میں براہِ راست ملوث ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب تک 3,000 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

لارڈ قربان حسین نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پاک بھارت تنازع کی شدت نے کئی بین الاقوامی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ بھارت نے سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان پر الزام لگا کر ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا جبکہ پاکستان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی۔ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی حدود میں حملے کیے، جس کے بعد صدر ٹرمپ کی ثالثی سے 10 مئی 2025 کو جنگ بندی ہوئی۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کرنے کا اعلان کر کے خطے کو دوبارہ کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے اور اس تنازع کے باعث دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک قدم ہے، اور برطانیہ کو چاہیے کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی میں مثبت کردار ادا کرے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور یورپی یونین نے نتیجہ خیز نتائج حاصل کیے ہیں، چینی صدر عافیہ صدیقی کیس؛ وزیراعظم اور کابینہ کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیجنے کا معاملہ رُک گیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آل پارٹیز کانفرنس آج ہوگی، اپوزیشن کا شرکت سے انکار جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ ترکیہ، بین الاقوامی دفاعی صنعتی نمائش میں شرکت لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کے وارنٹ گرفتاری جاری سلامتی کونسل غزہ میں فوری سیز فائر یقینی بنائے، مسئلہ فلسطین کے حل میں کردار ادا کرے، اسحاق ڈار پیپلزپارٹی، اے این پی اور جے یو آئی کا خیبرپختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت سے انکار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: لارڈ قربان حسین بھارتی مظالم

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا