نریندر مودی جنگی مجرم ہے، نیویارک کے سوشلسٹ میئرل امیدوار کا تہلکہ خیز بیان
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2025ء)نیویارک کے سوشلسٹ میئرل امیدوار زوہران مامدانی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک جنگی مجرم قرار دیا ہے۔غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیموکریٹک پارٹی اور نیویارک سٹیٹ اسمبلی ممبر زوہران مامدانی نے مودی سے ممکنہ ملاقات کے سوال پر سخت موقف اپنایا ۔
(جاری ہے)
زوہران مامدانی نے کہا کہ جیسے نیتن یاہو، ویسے ہی مودی، دونوں مسلمانوں کے قاتل، زوہران مامدانی نے 2002 کے گجرات فسادات کو یاد دلایا، جہاں 1000 سے زائد مسلمان مارے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ گجرات میں اس قدر قتلِ عام ہوا کہ لوگ اب یہ بھی نہیں مانتے کہ وہاں مسلمان رہتے تھے، زوہران مامدانی بھارتی نژاد امریکی مسلمان ہیں، والد کا تعلق بھی گجرات، بھارت سے ہے۔مامدانی اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی جنگی مجرم کہہ چکے ہیں، نیو میئر، نیو میڈیا فورم میں دیے گئے بیانات نے نیویارک کی سیاست میں ہلچل مچا دی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زوہران مامدانی نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔