وفاقی بجٹ کا حجم17.5کھرب تک رکھنے کا تخمینہ،چھوٹی گاریوں پر ٹیکس میں اضافہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا تخمینہ 17.5 کھرب روپے لگایا ہے، جو رواں سال کے مقابلے میں تقریباً 1.3 کھرب روپے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں دفاعی اخراجات، قرضوں پر سود کی ادائیگیاں، ترقیاتی فنڈز اور دیگر اخراجات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے لیے آئندہ مالی سال کا ہدف 14.
معاشی ٹیم نے اس بجٹ کی تفصیلات پر وزیرِاعظم شہباز شریف کو بریفنگ دے دی ہے۔ بجٹ میں مختلف شعبوں پر ٹیکس اصلاحات کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔ شیئرز کے منافع پر ٹیکس بڑھانے اور 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو موجودہ 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے کفایت شعاری کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ اس کے تحت وفاقی وزارتوں اور محکموں میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کامیاب رہے ہیں، اور بجٹ کی تیاری اس کے معاہدے کے فریم ورک کے مطابق کی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:بغیر ثبوت چالان نہیں ہونگے، ٹریفک وارڈنز کی وردی کیساتھ باڈی کیمرے منسلک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کھرب روپے
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا