مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم پر وکلا تنظیموں میں بحث شروع
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ابھی تک کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تاہم مخصوص نشستوں کے متعلق اپیلوں پر سماعت شروع ہونے کے بعد مجوزہ ترمیم کے بارے میں وکلا تنظیموں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی نے اعلیٰ عدلیہ میں سٹرکچرل ریفارمز کے لیے مجوزہ ترمیم کا خیر مقدم کیا۔
کراچی بار ایسوسی ایشن نے انکے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے وکلا مارشل لا کے دوبارہ نفاذ اور وفاق پر عدالتی ون یونٹ سکیم مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کریں گے۔
مزید پڑھیں: ایمان مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جبری گمشدگیوں کی کمیٹی سے مستعفی
بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وکلا اور عوام بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آزادانہ آواز بن کر ابھریں، انہیں حکومت کی جانب سے پراکسی کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیے۔
یہ باتیں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ مجوزہ ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے نئے حلف کی شرط بھی شامل ہو گی۔ یہ ان چند ججوں کو دھمکانے کی کوشش ہے جنہوں نے ابھی تک اپنا ضمیر فروخت نہیں کیا۔
دوسری جانب وکلا حیران ہیں کہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی کمیٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں کیوں سماعت کیلئے مقرر نہیں کیں، وہ مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کر رہے ہیں جو حکمران جماعتوں کی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے حصول کیلئے اہم ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ٹرانسفر ججز کیخلاف درخواست واپس لینے کا فیصلہ
وکلا کا ایک حصہ الزام لگا رہا ہے کہ 26ویں ترمیم سے فائدہ اٹھانے والے ان درخواستوں کا فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
یہ دکھائی دے رہا ہے کہ آئینی بنچ کے سربراہ اس کیس کی کارروائی کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا 26 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی ہے یا نہیں جو آئین پاکستان کی نمایاں خصوصیت ہے۔
آئینی بنچ کی تشکیل خود سوالیہ نشان ہے۔ وکلا کا خیال ہے کہ اگر سپریم کورٹ 26 ویں ترمیم کے متعلق فیصلے میں تاخیر کرتی ہے تو حکومت اس طرز کی مزید آئینی ترامیم لا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ بار ترمیم کے
پڑھیں:
شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔
واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔