اینڈ آف دی ڈے مذاکرات ملک کی ضرورت ہے، اطہر کاظمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
تجزیہ کار عامر الیاس رانا کا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب سیاسی طور پر تو بڑی کلیئر بات ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے لوگوں کو استعمال کرنے کے بعد پھر ایک دفعہ اس کو کہیں گے اکڑ گئے ہیں کہ جو مرضی کر لو میں نے تم سے بات کرنی ہے اوراگلے کہہ رہے ہیں کہ نہیں بات کرنی، کرنی ہے تو پہلے معافی مانگو ، صدق دل سے مانگو اور حکومت سے جاکہ بات کرو جواب تو یہ ہے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ عمران خان کو حقائق کا علم نہیں، اگر وہ 22 مہینے سے اپنے اعصاب کے ساتھ کھیل رہاہے تو پاکستان کے ساتھ بھی کھیل رہے ہیں، ان کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے.
تجزیہ کار اطہر کاظمی نے کہا کہ اینڈ آف دی ڈے مذاکرات ملک کی ضرورت ہے، دونوں طرف کی ضرورت ہے، حکومت کی بھی خواہش ہے، اسٹیبلشمنٹ کی بھی خواہش ہے اور خان صاحب کی بھی خواہش ہے، یہ ملک کی ضرورت ہے، کسی کو ایک دوسرے کی ضرورت ہو یا نہ ہو تعلقات بہتر ہوں، ملک کا سیاسی ماحول بہتر ہو، میرے خیال میں یہ تو ملک کی ضرورت ہے، باقی جو مارنگ کا ذکر ہے، اگر مارنگ کو کسی عدالت سے سزا ہوئی ہے، اگر مارنگ کی ایسی کوئی فنڈنگ ہے، مارنگ کے اوپرکوئی دہشتگردی کا الزام ہے تو میرے خیال میں پاکستان میں عدالتیں موجود ہیں، ان پر مقدمہ دائر کیاجائے.
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ 1373 ریزولوشن کا نام ہے جو سیکیورٹی کونسل نے اڈاپٹ کی تھی، 9/11 کے فوراً بعد جب امریکا پہ 11ستمبر 2001 کو اٹیک ہوا تھا اس کے فوری بعد سیکیورٹی کونسل نے یہ ریزولوشن اڈاپٹ کی تھی کہ دنیا کے تمام ممالک اب ٹیررازم کے خلاف جنگ میں تعاون کریں اور پھر اس کے تحت 1373ایک کمیٹی بنی جو وہاں بیٹھ کر مانیٹر کرتی ہے کہ دنیا میں کہاں کہاں ٹیررازم کے خلاف کیسی جنگ جاری ہے.
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ عسکری میدان کے بعد سفارتی میدان میں بھی پاکستان کی پرفارمنس اچھی لگ رہی ہے، پہلے تو وزیراعظم نے جو دورے کیے وہ بہت ہی ضروری تھے، یاد رہے کہ ہندوستان کے ساتھ ایک ملک نہیں کھڑا ہوا، پاکستان کے ساتھ نام لیکر ملک کھڑے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملک کی ضرورت ہے کے ساتھ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔