ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل؛ عائزہ خان کا خصوصی پیغام، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے نام
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
ٹک ٹاکر 17 سالہ ثنا یوسف کے بہیمانہ قتل نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دی ہے اور شوبز ستاروں نے بھی اس سفاکانہ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
خوبصورت اداکارہ عائزہ خان جو سوشل میڈیا پر سماجی موضوعات پر پوسٹیں کرتی رہتی ہیں نے ثنا یوسف کے قتل پر انسٹاگرام اسٹوری شیئر کی ہے۔
جس میں اداکارہ عائزہ خان نے انفلوئنسرز اور ایکٹوسٹس کو خبردار کیا کہ ہمارے معاشرے میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ اپنے گھر کا پتا، گاڑی کا نمبر، بچوں کے بارے میں اور ایسی جگہیں جہاں روزانہ آنا جانا ہو، کبھی بھی سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔
عائزہ خان نے انفلوئنسرز سے کہا کہ دنیا بھر سے لوگ آپ کو فالو کرتے ہیں جن میں سے اکثر کو آپ نہیں جانتے اس لیے سوشل میڈیا پر نجی معلومات ہرگز ہرگز شیئر نہ کریں۔
اداکارہ نے اپنی پوسٹ کے آخر میں دعا بھی لکھی اُنہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری کے آخر میں لکھا کہ اللّٰہ ہم سب کو اپنی حفاظت میں اور اچھے لوگوں کی صحبت میں رکھے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ