اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جون ۔2025 )اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاﺅنڈ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی اپیل پر نیب پراسکیوشن ٹیم نوٹیفائی کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی ہے.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاﺅنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، اور موقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہے، منتوں، مرادوں اور دعاﺅں کے بعد آج کی تاریخ ملی ہے، آج کی تاریخ ہمیں آسانی سے نہیں ملی، توشہ خانہ ون، توشہ خانہ ٹو اور اب 190 ملین پاﺅنڈ کیس بنایا گیا ہے، عمران خان کیخلاف 300 سے زائد مقدمات بنائے گئے.

انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے سزا ہوئی، ہائیکورٹ سے استغاثہ نے کہا ٹھیک نہیں ہوئی معطل کردی جائے، فیصلوں کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا، یہ کیسے فیصلے ہیں جس میں 6 ماہ سے میاں بیوی کو اندر رکھا ہوا ہے، یہ سابق وزیراعظم کے خلاف متنازع ترین فیصلہ ہے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جن جج صاحب نے کیس کا فیصلہ سنایا ان کے خلاف سپریم کورٹ کی آبزرویشنز موجود ہیں.

اسپیشل پراسیکیوٹر نیب رافع مقصود نے کہا کہ اس عدالت کا بڑا قیمتی وقت ہے، آپ میری بات سن لیں، میں نے ابھی کچھ نہیں کہا ہے میری گزارش ہے اس کیس میں وفاقی حکومت نے اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا تھا ابھی فیڈرل حکومت نے کوئی بھی پراسیکیوٹر جنرل تعینات نہیں کیا مجھے گزشتہ رات اس کیس کا پتہ چلا، مجھے نوٹس رات کو ملا، ہمیں وقت دے دیں. بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ خاتون کو 7 سال کی سزا سنائی گئی، جو ضمانت کی حقدار ہے جس جج نے یہ فیصلہ دیا اس کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا اس کیس میں فیصلے سے متعلق صحافیوں نے تاریخیں بتائیں 23 سال سے وکالت کررہے ہیں، کبھی فیصلہ آنے سے پہلے پتہ نہیں چلا.

انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو 20 دن سے کم دنوں میں سزا سنائی گئی، ٹرائل کورٹ میں پراسکیوشن بڑی تیز سے ٹرائل چلاتے ہیں، جب ہائی کورٹ کیس آتا ہے تو پھر ایسے چیزیں آتی ہیں کیس فکس ہی نہیں ہو رہا نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کل نوٹس ملا ہے، وقت دے دیں، عمران خان کیخلاف اسپیشل ٹیم لانا چاہتے ہیں، تو لائیں ہم نہیں گھبراتے، نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کہ 4 ہفتوں کا وقت دے دیں.

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے پراسکیوشن ٹیم کا نوٹیفکیشن لینا ہے تو 7 دن کا وقت لے لیں، نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کہ وزارت قانون سے خط و کتابت ہونی ہے، 4 ہفتوں کا وقت دے دیں بیرسٹر سلمان صفدر نے نیب استدعا کی مخالفت کی. عدالت نے نیب کو 7 دن میں پراسکیوشن ٹیم نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کی قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے متعلقہ وزارتوں سے کرنا ہے یا جہاں سے بھی ہو، پراسیکیوشن ٹیم مقرر کریں عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پوری دنیا کہتی ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عید کی چھٹیاں ہیں، وقت زیادہ دیا جائے جسٹس محمد آصف نے کہا کہ اب بھی آپ کو زیادہ ٹائم دیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کردی. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ملین پاﺅنڈ کیس نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے اسلام آباد نے کہا کہ کیس میں

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے