اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزامعطلی کی درخواست پروکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہے،منتوں، مرادوں اور دعاؤں کے بعد آج  کی تاریخ ملی ہے،آج کی تاریخ ہمیں آسانی سے نہیں ملی۔ 

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ ریفرنس  میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست  پر سماعت ہوئی،قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے سماعت کی،علیمہ خان بھی دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

قومی اقتصادی کونسل نے4 ہزار 224 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی

وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ آج سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہے،منتوں، مرادوں اور دعاؤں کے بعد آج  کی تاریخ ملی ہے،آج کی تاریخ ہمیں آسانی سے نہیں ملی،بانی پی ٹی آئی کیخلاف سپیشل ٹیم لانا چاہتے ہیں، لائیں، ہم نہیں گھبراتے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ بنچ کے سامنے سزا معطلی کی 2اپیلیں زیرسماعت ہیں ،عدالت میں سائفر ، توشہ خانہ جیسے متنازع کیسز آئے، پہلے توشہ خانہ ون، پھر توشہ خانہ ٹو اور پھر 190ملین پاؤنڈ کیس آ گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف 300 سے زائد مقدمات درج کئے گئے،یہ کیسے کیسز ہیں جن میں 6ماہ میں میاں بیوی کو جیل میں رکھا ہوا ہے،یہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف متنازع ترین فیصلہ ہے،جن ججز نے اس کا فیصلہ سنایاان کیخلاف سپریم کورٹ کی آبزرویشنز ہیں۔

نوجوان پر تشدد کاکیس، عدالت نے ملزم سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کی درخواست ضمانت  پر محفوظ فیصلہ سنا دیا

وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی بغیر کسی ثبوت کے جیل میں ہیں،بانی پی ٹی آئی نہ بیرون ملک جائیں گے نہ ہی ریکارڈ ٹمپر کرنے کا خطرہ ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ گزارش ہے کیس میں وفاقی حکومت نے سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیاتھا،ابھی وفاقی حکومت نے کوئی پراسیکیوٹر جنرل تعینات نہیں کیا، مجھے گزشتہ رات اس کیس کا پتہ چلا اور نوٹس ملا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں وقت دے دیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا