رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بے بنیاد خبر ایک بھارتی صحافی کو سرکاری نشریاتی ادارے سے واٹس ایپ پر موصول ہوئی، اور چند ہی منٹوں میں اسے تمام بڑے بھارتی چینلز نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اسلام ٹائمز۔ حکومتی دباؤ کے تحت جھوٹی خبریں پھیلانا نہ صرف میڈیا کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک کی عالمی امیج اور خارجہ پالیسی کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کی واضح مثال بھارتی میڈیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا میں غلط اور گمراہ کن معلومات کا سیلاب آ گیا۔ خاص طور پر 9 مئی کو پاکستان میں مبینہ فوجی بغاوت اور آرمی چیف کی گرفتاری سے متعلق جھوٹی خبر کو بھارتی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بے بنیاد خبر ایک بھارتی صحافی کو سرکاری نشریاتی ادارے سے واٹس ایپ پر موصول ہوئی، اور چند ہی منٹوں میں اسے تمام بڑے بھارتی چینلز نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ بھارت کی سابق خارجہ سیکرٹری نروپما راؤ نے نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے کسی واضح مؤقف کی عدم موجودگی کے باعث بھارتی چینلز نے حالات کو ایک غیر حقیقی فتح کے طور پر پیش کیا۔ ایک سابق بھارتی نیوی ایڈمرل کا کہنا تھا کہ فیک نیوز کے پھیلاؤ نے بھارت کو اطلاعات کی جنگ میں شکست سے دوچار کیا۔ اس تمام صورتحال پر بھارتی حکام اور ٹی وی چینلز نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چینلز نے

پڑھیں:

ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی