لاہور:

وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر سیکریٹری داخلہ نے قیدیوں کی سزا میں معافی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے قیدیوں کی سزا میں خصوصی معافی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو 90 دن کی خصوصی معافی دی گئی ہے اور سزا معافی کے حکم نامے سے 450 اسیران مستفید ہوں گے۔

پنجاب کی جیلوں سے 270 قیدی رہا ہو کر اہل خانہ کے ساتھ عید منائیں گے، سیکریٹری داخلہ پنجاب نے سزا میں معافی پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 216 کے مطابق دی۔

مخیر حضرات کی جانب سے نادار قیدیوں کے جرمانے کی ادائیگی اور اچھے کردار کے باعث بھی سزا میں کمی سے بھی قیدی رہا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پریزن رولز کے مطابق سزا معافی کا حکم مخصوص قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے، جن قیدیوں پر سزا میں معافی کا حکم لاگو نہیں ہوتا ان کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، ان میں دہشت گردی، فرقہ واریت، جاسوسی، بغاوت یا ریاست مخالف سرگرمی پر سزا یافتہ قیدی مستفید نہیں ہوں گے۔

اسی طرح قتل، زنا، منشیات فروشی، ڈکیتی، اغوا کے مجرمان اور مالی غبن اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدی مستفید نہیں ہوں گے۔

قانون کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جیل قوانین کی خلاف ورزی پر سزا پانے والے قیدی بھی مستفید نہیں ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پنجاب کی معافی کا کے مطابق ہوں گے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود