کراچی: مختلف ٹریفک حادثات میں نوعمر لڑکے سمیت تین افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات میں نوعمر لڑکے سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق منگھوپیر خیر آباد آمنہ مسجد کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت 55 سالہ منیر اکبر کے نام سے کی گئی جبکہ حادثہ تیز رفتار کار کی ٹکر سے پیش آیا تھا ۔
ایس ایچ او منگھوپیر عمران خان نے بتایا کہ حادثہ تیز رفتاری کے باعث کار کی ٹکر سے پیش آیا تھا جبکہ کار بے قابو ہو کر الٹ بھی گئی تھی۔ حادثے میں راہگیر منیر زد میں آکر جاں بحق ہوگیا جبکہ کار ڈرائیور خود بھی زخمی ہوا تھا جو موقع سے فرار ہوگیا۔
تاہم، پولیس نے کار کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اور اس حوالے سے مزید تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
ماڑی پور روڈ اسلامی کانٹا کے قریب ٹریفک حادثے میں نوعمر لڑکا جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال لائی گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 16 سالہ فیروز کے نام سے کی گئی جبکہ حادثہ دو موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔
تاہم، پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا نیو کراچی صبا سینما کے قریب بدھ کی شب رات 11 بجے کے قریب ٹریفک حادثے میں دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ایک شخص دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 60 سالہ ناصر کے نام سے کی گئی جبکہ 45 سالہ سجاد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس حادثے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔