’اڑان پاکستان‘ کے تحت 5 سالہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات جاری، 17 کھرب کا تخمینہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت نے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات جاری کر دیں جس کا تخمینہ 17 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 17 کھرب روپے کا ترقیاتی منصوبہ “اُڑان پاکستان” کے تحت پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کا مقصد پاکستان کو اقتصادی طور پر خود کفیل بنانا ہے، پانچ سالہ منصوبے میں وفاق کا حصہ 7 کھرب جبکہ صوبوں کا 10 کھرب ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ 2047 تک پاکستان کو 3 کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف ہے جس کے پیش نظر مالی سال 2025–2026 کے لیے ترقیاتی بجٹ 4.
حکومت نے پی ایس ڈی پی کے تحت ایک کھرب روپے کی وفاقی فنڈنگ مختص کی جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 33 ارب اور مہمند ڈیم کے لیے 35 ارب ، کوئٹہ، کراچی ہائی وے کے لیے 100 ارب اور انڈس ہائی وے کے لیے 25 ارب مختص کیے ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے سکھر- حیدرآباد موٹروے کے لیے 15 ارب روپے، کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں دانش اسکولز کے لیے 9 ارب اور وزیر اعظم ہنر پروگرام کے لیے 4.3 ارب جبکہ صحت کے شعبے میں ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے 1 ارب اور شوگر کے لیے 80 کروڑ مختص گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کیلیے وفاقی منصوبوں کی تعداد 1071 سے کم کر کے 800 کر دی ہے، جس میں کم ترجیحی اور غیر فعال پروجیکٹ شامل ہیں اور انہیں ختم کرنے سے قومی خزانے پر 2730 ارب کی بچت ہوگی۔
وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو اب 12.8 کھرب روپے تک محدود کر دیا گیا۔ حکومت نے نینو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نئی صنعتوں کے لیے نیشنل سینٹرز قائم کیے جبکہ پاکستان میں “کوانٹم ویلی” کے قیام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں مہنگائی 11.8 فیصد سے کم ہو کر 3.5 فیصد پر آگئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور ترسیلات زر میں 31 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی حجم 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی خسارہ 3.7 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد ہو گیا جبکہ غیر ضروری منصوبہ جات ختم کر کے صرف اپریل میں 5.4 ارب کی بچت ہوئی۔ صرف مئی 2025 میں 27 منصوبے منظور یا تجویز کیے گئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پی ایس ڈی پی کے 240 میں سے 210 منصوبے مکمل طور پر جانچے گئے، ترقیاتی شراکت داری پر ایشیائی ترقیاتی بینک، اے آئی آئی بی اور عالمی بینک سے مشاورت کی گئی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 23 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، اُڑان پاکستان” صرف بجٹ نہیں بلکہ آئندہ نسلوں سے وعدہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھرب روپے حکومت نے کے مطابق ارب اور کے لیے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔