’’یک طرفہ محبت ناسمجھی اور جذباتی کمزوری ہے‘‘؛ پروین اکبر
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
پاکستانی ڈرامے کی سینئر اداکارہ پروین اکبر نے یک طرفہ محبت کو ناسمجھی اور جذباتی کمزوری قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کے دوران سینئر اداکارہ نے موجودہ شوبز انڈسٹری اور نوجوان نسل کے رویوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
گفتگو کا آغاز ان کے فنی سفر سے ہوا، جو ریڈیو پاکستان سے اس وقت شروع ہوا جب وہ خود بھی محض ایک طالبہ تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی والدہ بھی ریڈیو میں اناؤنسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، اور ان کے انتقال کے بعد ہی پروین اکبر کو یہ موقع ملا۔
اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے شادی اور بچوں کی پرورش کے بعد تقریباً 18 سال کا طویل وقفہ لیا تاکہ وہ اپنی اولاد کو بھرپور وقت دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیصلے پر کبھی افسوس نہیں ہوا، کیونکہ ان کے نزدیک اولاد سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ہوسکتی۔
پروین اکبر نے آج کے دور کے فنکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شوبز کا ماحول تو بدلا ہی ہے، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوان اداکاروں کے رویے میں وہ عزت و ادب باقی نہیں رہا جو ماضی میں نظر آتا تھا۔ ان کے مطابق پہلے نوجوان فنکار سینئرز کو دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے، جبکہ اب بعض اوقات تو سلام کا جواب بھی نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے موجودہ فنکاروں کے اس رویے کو غرور اور ناسمجھی قرار دیا، اور کہا کہ آج کے اداکار تنقید کو برداشت نہیں کرتے۔ ’’اگر کوئی سینئر انہیں رہنمائی دے تو جواب ملتا ہے: اب آپ ہمیں سکھائیں گے؟‘‘۔ ان کے مطابق فن کی راہ میں سیکھنے کا جذبہ اور عاجزی بہت اہم ہے، اور یہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔
اداکارہ نے نوجوان لڑکیوں کو بھی ایک سنجیدہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی شادی جیسے بڑے فیصلے والدین پر چھوڑ دیں کیونکہ والدین ہمیشہ بچوں کےلیے بہتر ہی سوچتے ہیں۔ انہوں نے یک طرفہ محبت کو ’’جذباتی کمزوری‘‘ اور ’’بے وقت کی ناسمجھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام اکثر مایوسی ہوتا ہے۔
شوبز کی تکنیکی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پی ٹی وی پر ایک وقت میں تین کیمروں سے کام ہوتا تھا، ہر فنکار کا سین ایک ساتھ شوٹ ہوتا، جبکہ اب ہر سین الگ الگ شوٹ کیا جاتا ہے، اور اکثر ایک ہی کیمرے پر انحصار کیا جاتا ہے۔
پروین اکبر کا کہنا تھا کہ شوبز صرف شہرت اور چمک کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے، جس میں انکساری، محنت اور بڑوں کا احترام ہی ایک فنکار کی اصل پہچان بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروین اکبر انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔