WE News:
2026-06-03@01:56:29 GMT

ہم اتنے بھی غلط نہیں تھے

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

ہمارے ہاں یہ رواج بن چکا ہے کہ اپنی قوم پر لعن طعن کی جائے، اپنے ماضی میں غلطیاں نکالی جائیں اور ہر ایک پر کیچڑ اچھالا جائے۔ ایک بات اتنی بار سنی ہے کہ گویا کان پک گئے، ’ ہم نے سب کچھ غلط کیا، ہم بری طرح ناکام ہوگئے۔ پاکستان دنیا بھر میں اکیلا اور تنہا رہ گیا وغیرہ وغیرہ۔‘
بعض سیاہ بخت تو یہ کہتے ہوئے ملک او رقوم کے حوالے سے بہت سخت، درشت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ تان اسی پر توڑی جاتی ہے،’ ہم ایک قوم بن ہی نہیں سکے، بکھرا ہوا،منتشر ہجوم ہیں، ریاست بھی ناکام ہوگئی اورقوم بھی۔ ‘
کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا واقعی پاکستانی ریاست نے اپنے قومی سفر میں کوئی درست فیصلہ نہیں کیا؟

اگر سنجیدگی کے ساتھ، غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو جواب مایوس کن نہیں۔ یہ درست ہے اور سو فی صد درست ہے کہ آج ہمیں جہاں ہونا چاہیے تھا، وہاں نہیں ہیں۔ ہمارے دامن میں ناکامیاں ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری اکانومی کمزور اور ادارے روبہ زوال ہیں۔سماج میں مذہبی شدت پسندی اور عدم برداشت بھی بڑھی ہے، اس پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ ہمیں مثبت جمہوری روایات مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،اپوزیشن کو سپیس دی جائے، رول آف لا قائم کیا جائے اور ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو بہت کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

ایک بڑا اہم پہلو جو پچھلے تین چار ہفتوں میں سامنے آیا ہے، وہ ہمارا دفاع اور ہماری خارجہ پالیسی ہے۔پاکستان ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہوا، دشمن بڑی بے رحمی اور بے پناہ وحشی قوت کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوا۔یہ ٹیسٹ کیس تھا۔ ہمارا دفاعی نظام، ہمارے عسکری ادارے اس میں سرخرو ہوئے۔ اندازہ ہوا کہ ہمارا دفاع محفوظ ہاتھوں میں تھا۔ ہمارے ہتھیار کم قیمت ہونے کے باوجود زیادہ بہتر ثابت ہوئے، ہمارے پائلٹ، ہمارے انجینئرز، منصوبہ ساز، افسر اور جوان سب کے سب اپنی صلاحیتوں، جذبے اور کمٹمنٹ کی انتہائی اعلیٰ سطح پر پائے گئے۔ یہ نہایت خوش آئند بات ہے۔

سب سے بڑھ کر ہماری خارجہ پالیسی کامیاب ثابت ہوئی۔ ہمارے منفی سوچ رکھنے والے دانشور، لکھاری، تجزیہ کار پاکستانی خارجہ پالیسیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان دنیا میں تنہا اور لاچار ہوچکا تھا۔ اچانک ہی اندازہ ہوا کہ پاکستان دنیا بھر میں قابل اعتماد بہترین دوستوں سے گھرا ہے، جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ پکڑا اور بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اصل میں تو دنیا بھر میں تنہا، لاچار اور فرسٹریٹ ہمارا ازلی دشمن ملک ہوا ہے جسے اپنی خارجہ پالیسی پر بڑا ناز تھا، اب ہر جگہ سے پسپائی اس کا مقدر بن چکی۔

اگر کوئی دیانت داری سے تجزیہ کرے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ ریاست پاکستان نے ہمیشہ غلط فیصلے نہیں کیے۔کئی نازک امور پر نہایت سلیقے سے آگے بڑھا گیا، جن کے ثمرات ہمیں ملتے رہے۔ ہمارے ہاں لیفٹ کے دانشور اور لکھنے والے ہمیشہ یہ لکھتے اور کہتے آئے ہیں کہ لیاقت علی خان نے دورہ سوویت یونین کی دعوت مسترد کر کے امریکا کا دورہ کیا اور یوں ایک غلط انتخاب کیا۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یقیناً یہ بات صدمے کا باعث ہوگی کہ پاکستانی قیادت نے سوویت یونین کا انتخاب نہیں کیا اور اس کے بجائے مغربی بلاک کا حصہ بنناپسند کیا، مگر آج وہ 70 سال پہلے کا فیصلہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے، جب سوویت یونین نام کا ملک دنیا کے نقشے سے غائب ہوچکا، لیفٹ بلاک شکست سے دوچار ہوا اور روس حامی ممالک میں سے اکثر کے پاس امریکا اور مغرب کے پاس لوٹنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچی۔ پاکستان کا فیصلہ درست تھا، اس کے فوائد بھی حاصل ہوئے، اگرچہ امریکا کے ساتھ ہمارا تعلق اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، مگر اس کی بڑی وجہ ہماری ضرورت سے زیادہ توقعات تھیں۔ عالمی تعلقات میں ہر کوئی اپنے مفادات کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔

ویسے ایمانداری کی بات تو یہ بھی ہے کہ اگر ایک وقت میں امریکا نے ہمیں استعمال کیا تو بعد میں ہم نے بھی امریکا جیسی سپر پاور کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنے مفاد میں استعمال کیا۔ اسی (1980)کے عشرے میں افغان تحریک مزاحمت کے دوران اگر پاکستانی عسکری قیادت اس موقع کو استعمال کر کے ایٹم بم نہ بنا لیتی تو بعد میں یہ موقع قطعی طور پر نہیں ملنا تھا۔ بعد کے برسوں میں جن مسلم ممالک نے ایسی کوشش کی، سب کو ناکامی ہوئی۔

ایران کا آج امریکا اور یورپ نے جس طرح گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور اسے ایٹمی پروگرام آگے نہیں بڑھانے دے رہے، اس کے بعد تو ہمیں بطور قوم اپنے ان محسنوں کا شکرگزار ہونا چاہیے جنہوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی۔ ایٹمی پروگرام کامیاب بنایا، ایٹم بم بنا اور پھر کامیاب تجربات کیے۔ یوں پاکستان نیوکلیئر قوت بن گیا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے دو تین بڑے اہم بنیادی فیصلے 60 کے عشرے میں کیے گئے۔

امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات اور چین کے لیے تب امریکا کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان نے چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے جو بتدریج اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل گئے۔ چین کا بطور دوست انتخاب پاکستانی منصوبہ سازوں کی اچھی سلیکشن کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس پالیسی کو ایوب خان سے بھٹو اور جنرل ضیا الحق سے بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف، پرویز مشرف اور آصف زرداری، عمران خان تک ہر ایک نے آگے بڑھایا بلکہ اس میں کچھ نئے رنگ شامل کرنے کی کوشش کی۔ چین کے ساتھ پاکستان کا فوجی اور دفاعی اشتراک بہت ہی درست اور دانش مندانہ فیصلہ تھا۔ پاکستان نے چینی ہتھیاروں، ٹیکنالوجی پر بھروسہ کیا اور اب یہ ثابت ہوگیا کہ ہم نے اپنے انڈے ایک ٹھیک اور مضبوط ٹوکری میں رکھے تھے۔

اسی طرح 60 کے عشرے ہی سے دوست مسلمان ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات قائم کیے، سعودی عرب، عرب امارات، کویت اور بحرین وغیرہ کے ساتھ قربت کا ایسا تعلق قائم ہوا، جسے بعد میں تواتر سے جاری رکھا گیا۔ سعودی عرب کے ساتھ ہر پاکستانی حکمران نے تعلق برقرار رکھا بلکہ اس میں گہرائی لانے کی کوشش کی۔

کمال دانش مندی یہ برتی گئی کہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات ایران کی قیمت پر قائم نہیں رکھے گئے۔ ایران عراق جنگ میں عرب بلاک کے تمام تر دبائو کے باوجود پاکستان نہ صرف غیر جانبدار رہا، بلکہ ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات بھی برقرار رکھے گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پالیسی اس شخص نے اپنائی جو آج پاکستانی تاریخ کے متنازع ترین کرداروں میں سے ایک ہے، …جنرل ضیا الحق۔

پاکستان کے ایران کے ساتھ کچھ مسائل بھی رہے، گاہے تلخی بھی در آئی مگر پاکستان ایران کے خلاف عالمی یا کسی ریجنل گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں بنا۔ افغانستان البتہ تاریخ کے مختلف ادوار میں درد سر بنا رہا۔ پچھلے 70 برسوں میں سکون کے چند برس ہی میسر آئے۔ کیا ملا، کیا اینٹی ملا، کیاشاہ اور کیا کمیونسٹ، کم وبیش ہر ایک نے پاکستان کو کسی نہ کسی طرح ٹف ٹائم ہی دیا۔

مسلم دنیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالی جائے اور پھر پاکستان کو دیکھا جائے تو دو باتیں تسلیم کرنا پڑیں گی۔ ہمارے فیصلہ سازوں نے لچکدار رویہ اپنایا اور عالمی قوتوں کے ٹکراؤ میں اپنے لیے بہتر دوستوں کا انتخاب کیا، بدلتے حالات میں اپنے دفاع کو مضبوط کیا اور غیر ملکی امداد سے مسلم دنیا کی سب سے بہتر، منظم اور پروفیشنل فوج تیار کر لی۔ آج اس کا فائدہ کسی کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ الحمداللہ ہم اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور اقوام عالم میں سربلند بھی ہوچکے۔

پاکستانی عوام میں مزاحمت کی جو سطح ہے، جس طرح بری گورننس، آفات، خراب معیشت اور اندرونی وبیرونی دہشتگردی کے عفریت سے یہ نبرد آزما رہی، اس کی مثال مسلم دنیا میں کم ہی نظر آتی ہے۔ہمارے اندر خامیاں بھی بہت سی ہیں، بڑھتی کرپشن، اداروں کے زوال، سیاستدانوں کی قلابازیوں، اسٹیبلشمنٹ کی بار بار مداخلت درست نہیں۔

ہمیں اپنے آپ کو بہتر بنانا ہے، اپنی غلطیوں، خامیوں کو دور کرنا ہے۔ سب کچھ مگر ہم غلط نہیں کرتے رہے، کچھ فیصلے ہم نے درست بھی کیے ہیں۔ ہماری تاریخ اور ماضی میں سب سیاہ نہیں۔ روشن، جگمگاتے ابواب بھی موجود ہیں۔ ان سب کا ذکر ہونا چاہیے۔ اپنااحتساب بے رحمی سے کیا جائے، مگر ایسا کرتے ہوئے انصاف ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

عامر خاکوانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی کے ساتھ کیا اور

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف