Express News:
2026-06-03@03:50:04 GMT

پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا ایجنڈا

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

جنگ ،تنازعات اور نفرت کا ماحول کبھی دو ملکوں کے درمیان مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص اگر دونوں ممالک کو ایٹمی قوت کا درجہ حاصل ہو تو ان میں جنگ کا ہونا سوائے تباہی کے اور کچھ نہیںہو سکتا۔ پاک بھارت تنازعات کی طویل کہانی ہے اور جنگیں بھی ان کے مسائل کا حل ثابت نہیں ہوسکیں۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے ایک بار پھر اس نقطہ کی اہمیت کو بڑھایا ہے کہ دونوں ملکوں کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ بات چیت کے اندر تلاش کریں ۔ یہ ہی حکمت عملی دونوں ملکوں سمیت خطے اور عالمی دنیا کے مفاد میں ہے۔کیونکہ اگر پاک بھارت کشیدگی کسی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو یہ عالمی دنیا کے لیے بھی نئے خطرات کو جنم دے گی۔اس لیے دونوں ملکوں کے لیے جنگ یا کشیدگی سے بچنا اور پرامن سیاسی حل کی مدد سے آگے بڑھنے کی حکمت عملی کو ہی بالادستی ہونی چاہیے۔

دونوں ممالک کے درمیان جتنی بھی بداعتمادی ہو اس کا علاج مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سیاست اور جمہوریت میں مذاکرات ہی وہ واحد آپشن ہوتا ہے جس کو بنیاد بنا کر سیاسی فریقین ایک دوسرے کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرتے ہیں ۔مگر اس کے برعکس جب ہم اپنے سیاسی اختلافات کو دشمنی یا نفرت کا رنگ دیتے ہیں تو پھر مذاکرات کے مقابلے میں ڈیڈ لاک اور بداعتمادی کو برتری حاصل ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان مزید انتشار اور جنگ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔حالیہ دنوں میں پاک بھارت کشیدگی کوئی اچھا پہلو نہیں۔ یہ عمل دونوں ممالک میں امن کی خواہش رکھنے والے افراد کے لیے سیاسی دھچکہ ہے اور ان کو لگتا ہے کہ ہم پرامن راستے کو چھوڑ کر خود کو جنگ کے حالات میں دھکیل رہے ہیں۔

بھارت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے اور کئی دہائیوں سے اسے اپنے ہی ملک میں سنگین سیکیورٹی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان بطور ریاست بھارت میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے یا اس کا ذمے دار ہے درست بات نہیں ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کو نظرانداز کرکے بھارت کی سیاسی ڈھٹائی آگے نہیں بڑھ سکے گی اور دنیا کو بھی احساس ہوا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں رہنے والے لوگوں کے حقیقی مسائل پر حکومت کو ذمے دار کردار ادا کرنا چاہیے۔اصل جنگ اسلحہ کی بنیاد پر یا ایک دوسرے کے ملک کو فتح کرنے یا توڑنے کی بجائے پس ماندگی، غربت، خوراک کی کمی ،پانی کی کمی، روزگار کی فراہمی جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔دونوں ممالک کے لوگ اپنی حکومت سے اپنے مسائل کا حل اور بنیادی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں۔

دشمنی کسی کے حق میں نہیں ہے اور یہ عمل دونوں ملکوں کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔ بھارت کا رویہ پاکستان کی مخالفت میں بہت سخت اور نفرت پر مبنی ہے اور اسی بنیاد پر بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔حالانکہ علاقائی ممالک میں موجود تمام فورمز کو فعال کرنا یا اسے سرگرم انداز میں چلانا تاکہ تمام ممالک ایک دوسرے کے قریب آسکیں اس کی بڑی ذمے داری بھی بھارت ہی کی بنتی ہے۔ کیونکہ وہ ایک بڑا ملک ہے اور اس کی عدم دلچسپی کی وجہ سے علاقائی فورمز جہاں مشترکہ مسائل پر بات چیت ہوسکتی ہے عدم فعالیت کا شکار ہیں۔بھارت کو لگتا ہے کہ اگر علاقائی فورمز فعال ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ پاکستان کو ہوگا اور اسی بنیاد پر بھارت نے اس پر بھی ڈیڈ لاک کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

بھارت میں ہندواتہ یا مسلم دشمنی کی سیاست ہو یا پاکستان میں انتہا پسندی اس سے باہر نکلنا ہی علاقائی استحکام کے حل میں اہم ہے ۔اگر ہم انتہا پسندی کے خلاف ہیں تو اسی طرح سیاسی انتہا پسندی بھی اچھا فعل نہیں ہے اور اس کا نتیجہ سیاسی شدت پسندی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی سیاست اور اس سے جڑے فیصلہ سازوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ دونوں اہم ممالک کے درمیان بات چیت کا دروازہ کس نے بند کیا ہوا ہے اور کون بات چیت کا راستہ نکالنا چاہتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت کو نئی جہتوں اور بہتر ترقی اور آپس میں بہتر تعلقات کے نئے راستے تلاش کرنے ہونگے۔دونوں ملکوں کے عوام اپنی اپنی سیاسی قیادت سے یہ ہی توقع کرتی ہے کہ ان کی ترجیحات جنگ اور کشیدگی نہیں بلکہ تعمیر کا راستہ ہونا چاہیے۔اب بھی ہمیں بھارت سے پاکستان کی مخالفت یا نریندر مودی کے عزائم کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ کسی بھی طور پرپرامن تعلقات کے حق میں نہیں ہیں۔ بھارت کی سیاست پاکستان کے تناظر میں شدت پسندی کی ہے اور اس میں یقینی طور پر کمی آنا چاہیے۔

اگر بھارت کو اس بات پر مسئلہ ہے کہ پاکستان اس کے ملک میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے تو تمام ثبوت کو پاکستان کے ساتھ یا عالمی فورمزپر پیش کرنا چاہیے تاکہ اس اہم مسئلہ پر بھی پیش رفت ہو سکے۔پہلگام واقعہ پر اگر بھارت کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں تو ان کو ثبوت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔محض الزام تراشیوں یا ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اسکورنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں اور ہمیں جنگوں اور تنازعات سے باہر نکل کر سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔یہ دنیا اس وقت معیشت اور سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی کی دنیا ہے جب کہ ہم جنگوں اور تنازعات میں الجھ کر اپنے وسائل بھی دشمنی میں ضایع کررہے ہیں ۔

دونوں اطراف میں موجود سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور اہل دانش کوترقی اور امن کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے اپنی اپنی حکومتوں پر ہی دباؤ بڑھانا ہوگا کہ ریاستیں درست سمت کا تعین کریں۔

اسی طرح جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی،سماجی ،ثقافتی اور کھیل یا کلچرل سمیت معاشی تبادلوں کے امکانات کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا تب تک بہتری کا راستہ بھی نہیں نکل سکے گا۔اصل چیلنج ایک دوسرے کے بارے میں سازگار ماحول کو پیدا کرنا ہے۔جو لوگ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں خرابی پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کا راستہ روکنا ہی دونوں ملکوں کی اہم ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ دونوں ممالک میں موجود تنازعات اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہونگے ہمیں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات کا سامنا رہے گا جو ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملکوں کے درمیان دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کے دونوں ممالک مسائل کا حل پاکستان کے ممالک میں پاک بھارت ہے اور اس بنیاد پر میں نہیں کا راستہ نہیں ہے بات چیت ہیں تو کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی