ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، ٹیرف سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، ٹیرف سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں ٹیرف سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی میڈیا کے مطابق ٹیلیفونک رابطہ صدر ٹرمپ کی درخواست پر ہوا۔ امریکا میں چین کے سفارتخانیکا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے فون پر بات کی ہے،گفتگو کا مقصد عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے والے ٹیرف پر اختلافات دور کرنا تھا۔
چینی میڈیا کے مطابق ٹرمپ سیگفتگو میں صدر شی جن پنگ نیکہا کہ امریکا کو چین کے خلاف کییگئے منفی اقدامات کو منسوخ کرنا چاہیے، دو طرفہ سفارتی، معاشی، تجارتی، عسکری اور سکیورٹی تبادلوں کو بڑھانا چاہیے، غلط فہمیاں کم کرکے تعاون بڑھانا چاہیے۔
چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین امریکا تعلقات میں ہر قسم کی مداخلت اور تخریب کاری کو ختم کرنا ضروری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے تحفظات کا احترام اور مساوی رویہ رکھنا چاہیے، امریکا کو تائیوان کا مسئلہ احتیاط سے سنبھالنا چاہیے، دونوں ملکوں کے لیے ڈائیلاگ اور تعاون درست انتخاب ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ گھنٹہ بات چیت دونوں ملکوں کے لیے مثبت نتائج کی حامل رہی، حالیہ طے پانے والے تجارتی معاہدے پر بات کی، نایاب معدنیات کی پیچیدگی کے حوالے سے اب کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں جلد ملاقات کریں گی، زیادہ تر گفتگو تجارت پر مرکوز رہی، روس یوکرین اور ایران پر کوئی بات نہیں ہوئی، چینی صدر نے مجھے اور میں نے انہیں مدعو کیا، دو عظیم ممالک کے صدور کی حیثیت سے ہم دونوں اس ملاقات کے منتظر ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر قیدیوں کی سزا میں کمی، نوٹیفکیشن جاری وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر قیدیوں کی سزا میں کمی، نوٹیفکیشن جاری سرکاری ملازمین کا 10 جون کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان نئے چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر کا سپیکر سے رابطہ،پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام تجویز بیلا روس نے اپنی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس سے ٹریننگ دلانے کی خواہش ظاہر کردی چیئرمین سی ڈی اے کا سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ نرسری کا دورہ، اپ گریڈیشن، بحالی اور ‘گارڈینیا حب’ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے... حج کا رکن اعظم وقوفِ عرفہ ادا کیا جا رہا ہے، دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید میدانِ عرفات میں موجود
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹیلیفونک رابطہ
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔