UrduPoint:
2026-07-24@10:47:29 GMT

افغان باشندوں کی ٹرمپ سے سفری پابندیوں میں نرمی کی اپیل

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

افغان باشندوں کی ٹرمپ سے سفری پابندیوں میں نرمی کی اپیل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جون 2025ء) اسلام آباد سے موصولہ خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کے لیے کام کرنے والے افغان باشندوں نے آج بروز جمعرات صدرڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے امریکہ میں داخلے پر عائد پابندیوں کو ہٹا دیں۔ قبل ازاں امریکی صدر نے افغانستان اور ایران سمیت 12 ممالک کے شہریوں کے لیے امریکہ داخلے پر پابندی کے حکم نامہ پر دستخط کیے تھے۔

ان افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی یہ سفری پابندیاں ان کی امریکہ سے ملک بدری کا سبب بن سکتی ہے اور اگرانہیں واپس افغانستان جانا پڑا تو وہاں وہ شدید ظلم و ستم کا شکار ہوں گے۔

(جاری ہے)

امریکہ کے افغانستان پر حملے اور طالبان کے خلاف جنگ کے دوران بڑی تعداد میں افغان باشندوں نے امریکہ کے لیے کام کیا تھا، ان میں سے بہت سے طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہجرت کر کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں جا چکے ہیں۔

مگر اکثر اب بھی امریکہ پہنچے کی کوشش میں دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہیں اپنے وطن واپس جانے سے گوناگوں خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسےافغان باشندوں کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کے 'ٹریول بین‘ یا سفری پابندیوں سے استثنیٰ کی اپیل دراصل ٹرمپ کی طرف سے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور افغانستان سمیت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسا سکیورٹی بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے ان 12 ممالک کے علاوہ مزید سات ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر جزوی پابندی بھی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق نو جون سے شروع ہوگا۔

ٹرمپ کی سفری پابندیاں ان ہزاروں افغانوں کو متاثر کرسکتی ہیں ہے جو طالبان کی دوبارہ برسر اقتدار آنے والی حکومت سے فرار ہو کر امریکہ پہنچے تھے۔ ان کی دوبارہ آبادکاری کی منظوری ایک امریکی پروگرام کے ذریعے ملی تھی، جو افغانستان میں طالبان کے ظلم و ستم کے خطرات سے دوچارافغانوں کی مدد کے لیے کام کرتا ہے۔ ان میں امریکی حکومت، میڈیا اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیمیں یا انسان دوست گروپس کے لیے کام کرنے والے افغان باشندے شامل ہیں ۔

اس پروگرام کو تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں معطل کر دیا تھا۔ اس پروگرام کی معطلی کے شکار افغان باشندے پاکستان اور قطر سمیت متعدد ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

دریں اثناء پاکستان بھی ان غیر ملکیوں کو ملک بدر کر رہا ہے، جنہیں پاکستانی حکام ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی قرار دیتے ہیں۔ ایسے غیر ملکیوں میں زیادہ تر افغان باشندے شامل ہیں۔

اسلام آباد کے اس اقدام سے افغان پناہ گزینوں میں مزید خطرات کا احساس پایا جاتا ہے۔

طالبان کی انتقامی کارروائیوں اور پاکستانی حکام کی طرف سے ممکنہ گرفتاری کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افغان باشندے نے کہا،'' یہ دل دہلا دینے والی خبر ہے۔‘‘ یہ افغان باشندہ کابل میں 2021 ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے امریکی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے ان کے لیے کام کرتا تھا۔

خالد خان نامی ایک اور افغان باشندے کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں اُسے اور ہزاروں دیگر افغانوں کو بے سہارا کر دیں گی اور وہ پاکستان میں گرفتار کر لیے جائیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس نے محض امریکی سفارتخانے کی درخواست پر پہلے اسے اور اس کے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔

خالد خان نے کہا،''میں نے آٹھ سال امریکی فوج کے لیے کام کیا اور میں اب خود کو لاوارث محسوس کرتا ہوں۔

ہر مہینے، ٹرمپ ایک نیا قانون بنا رہے ہیں۔‘‘ تین سال قبل فرار ہو کر پاکستان آنے والے اس افغان باشندے کا کہنا ہے۔''افغانستان واپسی سے میری بیٹی کی تعلیم خطرے میں پڑ جائے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا رکھی ہے۔ میری بیٹی ان پڑھ رہ جائے گی۔ جب تک ٹرمپ وہاں ہیں، ہم کہیں کے نہیں ہیں۔ میں اپنے تمام معاملات اللہ پر چھوڑ رہا ہوں۔

‘‘

طالبان کی جانب سے ٹرمپ کی سفری پابندیوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

حکومت پاکستان نے پہلے کہا تھا کہ وہ افغانوں کو دوبارہ آباد کرنے کے سلسلے میں میزبان ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ترین ایگزیکٹیو آرڈرپر تبصرے کے لیے کوئی بھی دستیاب نہیں تھا۔

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکہ میں داخلے پر افغان باشندوں افغان باشندے کے لیے کام پر پابندی کے امریکہ طالبان کے ممالک کے ٹرمپ کی کا کہنا کام کر تھا کہ

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری