اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جون 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک درجن ممالک کے افراد کے سفر پر مکمل پابندی کے اعلان پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے اس کا مقصد 12 ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلے کو مکمل طور پر بند کرنا یا اسے محدود کرنا ہے۔

اس فہرست میں ایران، افغانستان، یمن، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان سمیت چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی اور میانمار شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں نے اطلاع دی ہے کہ اس پابندی کا اطلاق آئندہ پیر یعنی نو جون کو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 12:01 بجے سے ہو گا۔

نئے اعلان کے مطابق اب برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرا لیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا سے امریکہ آنے والے افراد کو بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

ٹرمپ نے اپنے اعلان میں کہا، ''مجھے امریکہ اور اس کے عوام کی قومی سلامتی اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔

"

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس نے حقائق سے متعلق جو فہرست جاری کی ہے، اس کے مطابق اس میں سے، "کچھ نامزد ممالک میں اسکریننگ اور جانچ کے ناکافی عمل ہیں، جو امریکہ میں داخلے سے پہلے ممکنہ سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔"

سفری پابندیاں: کیا پاکستانی بچوں پر امریکی تعلیم کے دروازے بند ہونے جا رہے ہیں؟

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض دوسرے ممالک کے افراد "ویزا کی مدت سے زائد قیام کرتے ہیں" یا ایسے ملک شناخت اور خطرے کی معلومات کے اشتراک میں تعاون نہیں کرتے ہیں۔

کولوراڈو حملے کے سبب پابندی پر دستخط کیے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 12 ممالک پر نئی سفری پابندی کو نافذ کرنے کا فیصلہ غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی حمایت میں کولوراڈو میں ہونے والی ریلی پر حملے کی وجہ سے کیا ہے۔

حکام نے اس حملے کا الزام ایک مصری شہری پر لگایا، جو ان کے بقول ملک میں غیر قانونی طور پر موجود تھا۔

ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ "بولڈر، کولوراڈو میں حالیہ دہشت گردی کے حملے نے ہمارے ملک کو ایسے غیر ملکی شہریوں کے داخلے سے لاحق خطرات کو واضح کر دیا ہے، جن کی صحیح جانچ نہیں کی گئی۔"

انہوں نے مزید کہا "ہم انہیں (ایسے لوگوں کو) نہیں چاہتے"۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر میں خطرات سامنے آنے کے بعد اس فہرست میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔

افغان اور پاکستانی شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی؟

امریکہ کی جزوی سفری پابندیوں کا مطلب کیا ہے؟

سات ممالک کے شہریوں پر جزوی سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، جس میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرا لیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔

جزوی سفری پابندی ان لوگوں کو متاثر کرتی ہے جو عارضی طور پر کاروبار یعنی ( بی ون یا بی ٹو ویزا) کاروبار یا سیاحتی ویزا کے تحت امریکہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔

امریکی پابندیاں باہمی تعلقات کے قیام میں رکاوٹ، طالبان

نئی پابندیاں ان لوگوں پر بھی لاگو ہوتی ہیں، جو تعلیمی یا پیشہ ورانہ مطالعہ کے لیے ایف ون ویزا یا جے ون ویزا کے تحت امریکہ جانا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کی 'سفری پابندیاں تعصب اور اسلامو فوبک' ہیں

مختلف نظریاتی حلقوں کی طرف سے ٹرمپ کے سفری پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا کی نمائندگی کرنے والی ڈیموکریٹ کانگریس کی خاتون جوڈی چو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کی سفری پابندی کو 'متعصب اور اسلامو فوبک' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ ہماری بنیادی امریکی اقدار کے خلاف ہے، جبکہ ہمیں محفوظ بنانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔"

جو بائیڈن نے مسلم ممالک پرعائد سفری پابندیاں ختم کردیں

واشنگٹن میں قائم آزادی پسند تھنک ٹینک کیٹو انسٹیٹیوٹ میں امیگریشن کے تجزیہ کار الیکس نوراستہ کا کہنا ہے کہ جن 12 ممالک پر پابندی عائد کی ہے، اس کے دہشت گردوں نے سن 1975 سے اب تک امریکی سرزمین پر صرف ایک شخص کو قتل کیا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا، "ان ممالک میں سے کسی ایک سے دہشت گردی کے سبب مارے جانے کا سالانہ امکان: 13.

9 بلین میں سے صرف ایک کا ہے۔"

آکسفیم امریکہ نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ یہ نئی سفری پابندی "خوف، تفریقی سلوک اور تقسیم کی پالیسیوں کی طرف واپسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔"

چینی حکام پر امریکی پابندیاں، امریکا غلطی درست کرے، بیجنگ

ادارے نے کہا کہ یہ پابندی ایک بار پھر مسلم اکثریتی ممالک اور زیادہ تر سیاہ اور بھوری آبادی والے ممالک کے افراد کو نشانہ بناتی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ یہ اقدام، "عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا ہے اور نقصان دہ دقیانوسی تصورات، نسل پرستی اور مذہبی عدم برداشت کو برقرار رکھنے کا کام کرتا ہے۔" ورلڈ کپ کے کھلاڑیوں کے لیے استثنی

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے بات کرنے والے امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ کی نئی سفری پابندیوں میں کئی رعایات بھی شامل ہیں۔

اس میں واضح طور پر کھلاڑیوں یا ایتھلیٹک ٹیموں کے ارکان، بشمول کوچز اور معاون عملہ، اور ورلڈ کپ، اولمپکس یا دیگر کھیلوں کے مقابلوں کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں کو امریکہ سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔

کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ مل کر امریکہ 2026 میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ گرچہ پابندی والے ممالک کی بیشتر ٹیموں نے ابھی تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کیا ہے، تاہم ایران پہلے ہی 2026 کے ٹورنامنٹ میں جگہ بنا چکا ہے۔

پانچ مسلم ممالک سے آنے والوں پر پابندیاں، ٹرمپ کی ’قانونی فتح‘

سوڈان کی قومی فٹ بال ٹیم بھی کوالیفائرز کے لیے اپنے گروپ میں سرفہرست ہے، یعنی وہ بھی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں کھیل سکتی ہے۔

لیکن ایران اور سوڈان کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر مکمل پابندی کی وجہ سے ان ٹیموں کے مداح امریکہ میں کھیلنے کے دوران اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کے لیے نہیں پہنچ سکیں گے۔

ادارت: جاوید اختر

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکہ میں داخلے سفری پابندیاں سفری پابندی ممالک کے انہوں نے ممالک پر ٹرمپ کی ورلڈ کپ کیا ہے کے لیے کہا کہ نے ایک

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام