Daily Ausaf:
2026-07-24@09:29:16 GMT

چینی اقتصادی پیش رفت کے خلاف ایٹمی جنگ کا بیانیہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

بات عام فہم اور کتابی سی ہے کہ جسے جانتے تو سب ہیں لیکن اب اس کا تذکرہ کر کے ہائی لائٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ آپ نے حالیہ پاک ،بھارت چپقلش میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پہ ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی بازگشت ضرور سنی ہو گی اور اس بیانیے کو ایک مخصوص عالمی ایجنڈے کے تحت ہر سطح پہ پھیلایا گیا اور دونوں ایٹمی ممالک کے سوشل، الیکٹرانک،پرنٹ میڈیا پہ ایک ہیجان انگیز صورتحال پیدا کر دی گی کہ اگر دونوں ممالک میں سے کسی کی سالمیت کو خطرہ محسوس ہوا تو ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں روزانہ کی سطح پہ آپ کو مختلف ارسطو اپنی آراء پیش کرتے بھی نظر آتے ہیں کہ جو اس جنگ زدہ ماحول کی جلتی ہوئی آگ پہ مزید تیل ڈال کر اپنی حکمت کا اظہار کرتے ہیں ۔
درحقیقت اس وقت براعظم امریکہ و یورپ میں تو ایسی جنگی صورتحال اور ہجان انگیزی نہیں ہے اور عوام اس ہیجان انگیزی سے لاتعلق ہیں جبکہ عالمی سطح پہ تمام جنگیں مشرق وسطی اور براعظم ایشیاء پہ تھونپی جا رہی ہیں ۔اس وقت ایشیاء میں4 ایسے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں کہ جن میں چین ، روس ، پاکستان اور بھارت شامل ہیں اور چین کی اقتصادی ترقی و پیش رفت نے امریکہ ، یورپ وغیرہ کو برے طریقے سے چیلنج کر رکھا ہے، اور اس صورتحال میں دو ایسے ایشیائی ممالک پاکستان اور بھارت کو ایٹمی جنگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے کہ جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں تاکہ اس پورے خطے کا امن تہہ و بالا کر کے عالمی طاقتوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کی جاسکے ۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی ، دہشت گردی اور مذہبی منافرت جیسے ایشوز کو نقطہ بنا کر کے ان دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا پہلا رائونڈ مکمل کیا جا چکا ہے کہ جس میں فضائی اور راکٹ حملے وغیرہ کروا کر بنیاد رکھی دی گی ہے ۔ جنگ شروع بھی امریکہ کرواتا ہے اور پھر مخصوص مدت کے لئے جنگ کو رکواتا بھی امریکہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دو ایٹمی ممالک ایک دوسرے پہ ایٹمی ہتھیاروں سے وار کا عندیہ بھی ایسے سناتے ہیں کہ جیسے چنے بانٹ رہے ہوں جبکہ عالمی طاقت کے زیر اثر اس ساری ایکسرسائز کا مقصد براعظم ایشیاء میں بدامنی پیدا کر کے اس کی تعمیر و ترقی کو روکنا ، عوام کی بدحالی اور خطے کو اندھیروں میں دھکیلنا ہے کہ جس کی بناء پہ براعظم ایشیاء کی ابھرتی ہوئی اکانومی کو ہر صورت روکنا ہے ۔یہ ایک بڑا گیم پلان ہے کہ جسے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان اور بھارت کسی بھی ایسی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ جو ایک عالمی سازش کی تکمیل کے لئے لڑی جائے اور جس کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کا پورا علاقہ تباہ و برباد ہو جائے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ میڈیا پہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا بیانیہ ترتیب دیا جا رہا ہے، اور دونوں ممالک کی قیادت اس وقت ہوشمندی کا ثبوت نہیں دے رہی اور الٹے سیدھے بیانات دے کر معاملات کو مزید الجھا رہی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کو ایک ایسے جنگی بخار میں مبتلا کر رہی ہے کہ جس کا فائدہ ان ممالک کے عوام کو نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کو ملنا ہے ۔
پاکستان ، بھارت کے درمیان محدود جنگ کے پہلے رائونڈ کو تو اسی طاقت نے رکوا دیا ہے کہ جس طاقت نے یہ جنگ شروع کروائی تھی لیکن یہ بھی صاف نظر آرہا ہے کہ اب جنگ کا دوسرا رائونڈ انتہائی جان لیوا ثابت ہو گا ، کیونکہ اس دوسرے رائونڈ کے لئے دونوں ممالک کی جانب سے بیانات ہی اس طرح کے دیئے جا رہے ہیں کہ اب کی بار وہ ایک دوسرے کو نیست و نابود کر دیں گے، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر گزریں گے ۔ دونوں ممالک کے عوام کا وسیع تر مفاد اور حکمت اسی میں ہے کہ ان بے سروپا جنگوں سے بچ کر وسائل کو ملکی تعمیر و ترقی اور عوامی خوشحالی پہ صرف کیا جائے، اور ایٹمی جنگ کی دھمکی بیانیہ کی حد تک تو بھلی محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے مضمرات کا اندازہ کرنا بھی شائدناممکن ہے ۔
سنجیدہ اور محب وطن قیادتیں عوامی ترقی کی راہیں ہموار کرتی ہیں اور جنگ سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ جنگ شروع کرنا ایک پاگل پن تو ہو سکتا ہے کہ جس کے لئے کسی خاص تردد کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اصل دلیری اور حکمت ایسی کسی جنگ سے بچنا ہے کہ جس سے حاصل وصول دونوں ممالک کو کچھ بھی نہیں ہونا ماسوائے تباہی کے ، آج کل قوموں کی ترقی کا راز معیشت کی ترقی میں ہے نا کہ جنگوں میں،دونوںہمسایہ ممالک کی قیادت کا یہ امتحان ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی وار سے اپنے خطے اور عوام کو بچائیں اور قوموں کو جنگی بخار کے پاگل پن زدہ ماحول سے نجات دلا کر عوامی مفاد اورمعیشت کی ترقی کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایٹمی ہتھیاروں سے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے درمیان ممالک کی ممالک کے ہے کہ جس کیا جا جنگ کا ہیں کہ ہے اور کے لئے

پڑھیں:

ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور مختلف کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر مفصل اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی علاقائی امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ  کی آئندہ سربراہی سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی و علاقائی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک چین تعلقات پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ وانگ یی شنگھائی تعاون تنظیم

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال