ہمیں بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: وزیراعظم شہبازشریف
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پانی کے اپنے حق کو محفوظ بنانا ہم سب کے لیے اجتماعی چیلنج ہے، چاروں صوبوں کے عوام کی پانی کی ضرورت پوری کرنا حکومتی ترجیح ہے، ہمیں بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی ماحولیاتی نظام کے لیے اہم خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور قوم ہمارا فرض ہے کہ ہم آئندہ نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کریں، اگر آبی وسائل کے لیے اقدامات نہ کیے تو آئندہ نسلیں معاف نہیں کریں گی۔
انہوں نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ سے متعلق کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی، روایتی جنگ کی طرح آبی معاملے پر بھی بھارتی گھمنڈ خاک میں ملائیں گے، پاکستان عالمی آبی معاہدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے گا، ہمیں خود بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے، ہمیں اپنے آبی ذخائر کو خود بڑھانا ہوں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارت نے حالیہ جنگ میں بدترین شکست کے بعد سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کیا، پانی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق بھارت اپنے بیانیے کو ہوا دے رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پانی بند کرنے کے بھارتی دھمکی آمیز بیانیے کو دنیا نے یکسر مسترد کیا، پاک بھارت کشیدگی میں امریکا، دیگر ممالک نے واضح کیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قابل قبول نہیں، بھارتی پروپیگنڈے کو نہ تو سیاسی کامیابی ملی نہ ہی ان کے بیانیے کو اقوام عالم میں سے کسی نے تسلیم کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاریخی فتح پر اللّٰہ تعالیٰ کاجتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے، معاشی میدان میں وفاق اور صوبوں نے مل کر 24 کروڑ عوام کے لیے شاندار مستقبل ترتیب دینا ہے، شکر ادا کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم شبانہ روز محنت کریں، معاشی میدان میں کامیابی محض باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے، انتھک محنت اور لگن سے ہی معاشی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ 24 اپریل کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بھارتی آبی جارحیت کا بھر پور جواب دینے کا فیصلہ ہوا تھا، حکومت سیاسی اور سفارتی محاذ پر توجہ مرکوز کرے گی، سندھ طاس معاہدے میں واضح ہے کوئی فرقی اس سے یکطرفہ طور پر انحراف نہیں کرسکتا، سلیٹنگ کے باعث موجودہ ڈیموں میں پانی کے ذخیرےکی گنجائش کم ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہبازشریف نے کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک