بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے واشنگٹن میں مصروف دن گزارا۔ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے امریکی صدر ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعلقات، علاقائی امن اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کے عالمی تنازعات میں جنگ بندی اور سفارتی سہولت کاری کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال، خاص طور پر بھارت کی بلا اشتعال جارحیت، مسلسل مخالفانہ بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر وفد نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستانی وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور امید ظاہر کی کہ امریکہ اس ضمن میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہ دورہ پاک امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے اور علاقائی سطح پر قیام امن کی مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفد نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔