وائس چانسلر فاطمہ جناح کا سر گنگا رام ہسپتال کا دورہ، مریضوں اور عملے کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے حسبِ روایت عید الاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر سر گنگا رام ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں مریضوں، ڈاکٹرز اور عملے کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے قائم اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اس سال بھی عید ہسپتال میں گزاری۔ ان کے ہمراہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عارف افتخار، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر فرزانہ لطیف سمیت مختلف شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور ہسپتال انتظامیہ موجود تھے۔
بختاور بھٹو کی عیدالاضحیٰ پر اپنے بیٹوں اور دُنبوں کے ہمراہ تصاویر وائرل
وائس چانسلر نے فیکلٹی کے ہمراہ ایمرجنسی، میڈیکل وارڈ، سرجیکل وارڈ اور مدر اینڈ چائلڈ بلاک کا دورہ کیا، مریضوں کی خیریت دریافت کی اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ علاوہ ازیں انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف میں تحائف اور عیدی بھی تقسیم کی۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اس موقع پر کہا کہ عید الاضحیٰ مسلمانوں کے لیے خوشی، ایثار اور قربانی کا دن ہے۔ اس موقع پر ہمیں دکھی انسانیت کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے، یہی اصل قربانی ہے۔
انہوں نے سر گنگا رام ہسپتال میں صحت عامہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی پر حکومت پنجاب کی کاوشوں کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
کشمیریوں کی بہادرانہ جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل عاصم منیر
اپنے پیغام میں عوام کو اعتدال کے ساتھ گوشت کھانے کا مشورہ دیتے ہوئےاُن کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت سے زائد گوشت کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
وائس چانسلر نے عید کے موقع پر نہ صرف طبی عملے کو سراہا بلکہ ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بھی خراجِ تحسین اور عید کی مبارکباد پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وائس چانسلر عید کی
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔