شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باوجود عید پر قربانی کا گوشت کیسے محفوظ کر سکتے ہیں؟ ماہرین نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
کراچی میں شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ نے عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا شہریوں کے لیے بڑا چیلنج بنادیا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت دھونے کے بعد اسے صاف کپڑے سے اچھی طرح خشک کیا جائے اور پھر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایئر ٹائٹ ڈبے یا پالیتھن بیگز میں رکھ کر فریز کیا کردیا جائے۔
جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹر ہلار شیخ کا کہنا ہے کہ قربانی کے بعد گوشت کو اگر دھو کر خشک نہ کیا جائے اور فریزر میں رکھنے میں دیر کی جائے تو گوشت کے خراب ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔طبی ماہرین نے بتایا کہ اکثر خواتین محلے یا عزیز و اقارب سے آنے والے گوشت کو پلاسٹک کی عام تھیلیوں میں رکھ دیتی ہیں، جو نہ صرف فریزر میں مناسب طریقے سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ ان تھیلیوں سے فریزر کی گیس گوشت میں بآسانی آجاتی ہے۔
اس سے گوشت جلد خراب ہونے لگتا ہے اور اس میں ٹاکسنز (زہریلے مادے) پیدا ہو سکتے ہیں جو صحت کے لیے خطرناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گوشت کو مہینوں تک جما کر بار بار نکال کر کھانے سے معدے اور آنتوں سے جڑی مختلف بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، اس لیے گوشت کو محفوظ رکھنے میں احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے۔انہوں نے تنبیہ کردی کہ فریزر بند ہونے کی صورت میں گوشت کو برف، اسٹیل یا تھرموکول کے ڈبوں میں آئس بلاکس یا جمی ہوئی پانی کی بوتلوں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں عارضی کولڈ اسٹوریج کی سہولت بھی دستیاب ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ پیغام دیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی کا گوشت مستحقین اور حق داروں میں فوری طور پر تقسیم کرنا افضل عمل ہے، تاکہ نہ صرف اجر حاصل ہو بلکہ گوشت ضائع ہونے سے بھی بچایا جا سکے۔انہوں نے خبر دار کیا کہ فریزر میں طویل عرصہ رکھے گوشت میں بیکٹیریا اور فنگس پنپ سکتے ہیں، جن سے فوڈ پوائزننگ، دست، الٹی، یا ہیپاٹائٹس ای جیسے انفیکشنز بھی ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔