WE News:
2026-07-24@01:33:48 GMT

’کرپٹو کڈنیپنگز‘، ڈیجیٹل کرنسی کا تاریک پہلو

اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT

’کرپٹو کڈنیپنگز‘، ڈیجیٹل کرنسی کا تاریک پہلو

دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کی مقبولیت کے ساتھ ہی ایک خطرناک رجحان’ کرپٹو کڈنیپنگز‘ سامنے آیا ہے۔ اس میں مجرم افراد یا گروہ کرپٹو سرمایہ کاروں کو اغوا کر کے ان سے ڈیجیٹل اثاثے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کرپٹو کرنسیوں پر کوئی پابندی نہیں، اسٹیٹ بینک کی وضاحت

حال ہی میں نیویارک میں ایک واقعے میں، ایک کرپٹو سرمایہ کار کو 17 دن تک قید میں رکھ کر اس کے بٹ کوائن والٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح فرانس میں بھی کرپٹو کاروباری افراد اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں اغوا اور تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

بین الاقوامی نیوز پلیٹ فارم الجزیرہ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ کراچی میں ایک کرپٹو تاجر کو اغوا کر کے اس سے 340,000 امریکی ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چھین لیے گئے۔ تحقیقات کے دوران پولیس اہلکاروں کی ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو سرمایہ کاروں کو اپنی آن لائن موجودگی محدود رکھنی چاہیے اور سیکیورٹی کے جدید طریقے اپنانے چاہئیں، جیسے کہ ملٹی سگنیچر یا کولڈ والٹس کا استعمال۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستان کرپٹو کرنسی میں واقعی بھارت کے مقابلے میں آگے نکل گیا ہے؟

اس کے علاوہ اپنی دولت کا دکھاوا کرنے سے گریز کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مجرموں کی توجہ نہ مبذول ہو۔

کرپٹو کڈنیپنگز کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کے ساتھ ساتھ جسمانی سیکیورٹی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے محتاط رہنا ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اغوا الجزیرہ ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کڈنیپنگز کرپٹو کرنسی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اغوا الجزیرہ ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک