Islam Times:
2026-07-24@05:54:04 GMT

علامہ حسنین وجدانی کی بلاجواز گرفتاری

اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع : علامہ حسنین وجدانی کی بے جواز گرفتاری اور غافلانہ سکوت!
مہمان: علامہ  محمد کاظم بہجتی  ( کوئٹہ)
میزبان: سید انجم رضا 
تاریخ: 8 جون 2025

پاکستان کا ایک درد آشنا، باعمل، باوقار عالم دین، امام جمعہ کوئٹہ، علامہ غلام حسنین وجدانی گزشتہ  40 دن سے سعودی عرب کی قید میں ہے
تفصیلات کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل 19 اپریل کو عمرے سے واپسی پرطائف ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا  تھا۔ اس سے قبل بھی ایک پاکستانی فعال مزاحمتی جوان کو سعودی حکومت نے گذشتہ 6 ماہ سے گرفتار کر رکھا ہے
تاحال ان کی رہائی کیلئے حکومت سمیت کوئی سنجیدہ نہیں ہے ۔ اگر سعودی قونصلیٹ کراچی کے سامنے احتجاج کریں تو حساس اداروں کا دباؤ آجاتا ہے۔ افسوس اس بے حسی پر آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ؟

خلاصہ گفتگو و اہم نقاط:
علامہ غلام حسنین وجدانی کوئٹہ میں امام جمُعہ ہیں اور آپکا تعلق گلگت سے ہے
علامہ غلام حسنین وجدانی  کی شہرت انتہائی معزز اور اتحاد بین المسلمین کے داعی عالم دین کی ہے
کوئٹہ کے تمام مذہبی و سماجی حلقوں میں علامہ غلام حسنین وجدانی  کابہت احترام ہے
علامہ غلام حسنین وجدانی ایک نرم مزاج اور معتدل  عالم دین کے طور پہ معروف ہیں
علامہ غلام حسنین وجدانی کی  بلاوجہ گرفتاری کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں
حتیٰ کہ علامہ غلام حسنین وجدانی کے اہلِ خانہ کو بھی ان کی گرفتاری کی تفصیلات نہیں معلوم
ملی جماعتوں کی  نے بھی کوئی موثر آواز نہیں اٹھائی
ان  کی رہائی کے لئے مضبوط آواز اٹھانا ضروری ہے تاکہ آئندہ بھی کسی عالم دین کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو
حکومت کو بھی ایک قانون پسند پاکستانی عالمِ دین کی رہائی کے لئے اقدامات کرنے چاہیئں
پاکستان کی وزارت خارجہ کی خامشی بھی ناقابلِ فہم ہے
علامہ غلام حسنین وجدانی کی بیشتر مصروفیات  تدریسی تبلیغاتی ہیں
علامہ غلام حسنین وجدانی  اب بھی ایک قافلے کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے گئے تھے
پاکستانی شہری دنیا میں کہیں بھی  ہووہ پاکستانی حکومت  کی ذمہ داری  ہے
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ غلام حسنین وجدانی حسنین وجدانی کی عالم دین

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی