غزہ میں القسام بریگیڈز کی تازہ کارروائیوں میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
القسام بریگیڈز نے تازہ کارروائیوں کے دوران خان یونس کے جنوب میں ایک فوجی بلڈوزر کو نشانہ بنانے اور غزہ کے مشرق میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں القسام بریگیڈ کی تازہ کارروائیوں میں مزید دو صیہونی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ القسام بریگیڈز نے تازہ کارروائیوں کے دوران خان یونس کے جنوب میں ایک فوجی بلڈوزر کو نشانہ بنانے اور غزہ کے مشرق میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ القسام بریگیڈز نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ اس نے کل ہفتہ کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے جنوب میں المنارا محلے میں یرموک سائٹ کے قریب یاسین 105 میزائل سے D9 فوجی بلڈوزر کو نشانہ بنایا۔ ایک اور بیان میں، قسام کے جنگجوؤں نے تصدیق کی کہ انہوں نے مشرقی غزہ شہر میں شجاعیہ محلے کے مشرق میں، النزاز اسٹریٹ پر دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ دریں اثناء القدس بریگیڈز نے صیہونی فوج کو نشانہ بنانے کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔ ادھر رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس کے مشرق میں فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیلی قابض فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، فلسطینی ویب سائٹس کے مطابق، اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کو زخمی فوجیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دو اسرائیلی فوجی تازہ کارروائیوں القسام بریگیڈز خان یونس کے کے مشرق میں بریگیڈز نے کو نشانہ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔