data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں درندگی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے عید کے روز گوشت دینے کا بہانہ بنا کر خاتون کے گھر میں داخل ہو کر مبینہ طور پر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا ہے کہ ملزم چوہدری طارق سے اس نے دو کروڑ روپے مالیت کا مکان خریدا تھا، جس کی مد میں ایک کروڑ 70 لاکھ روپے فوری طور پر ادا کیے، جبکہ باقی 30 لاکھ روپے بھی بعد میں مکمل طور پر ادا کر دیے گئے۔ تاہم، خاتون کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے تاحال مکان کی رجسٹری کرانے میں لیت و لعل سے کام لیا اور ملکیت منتقل نہیں کی۔

متاثرہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے مکان پر دوبارہ قبضے کی کوشش کی، جس پر عدالت سے حکمِ امتناع حاصل کیا گیا۔ عید کے دن، اسی شخص نے گوشت دینے کے بہانے گھر کا دروازہ کھلوایا، اور خاتون کو اکیلا پا کر مبینہ طور پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔

واقعے کے فوراً بعد خاتون نے پولیس ہیلپ لائن پر کال کی، جس کے نتیجے میں پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی ابتدائی چھان بین شروع کی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ کا بھی انتظار ہے، جس کے بعد کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متاثرہ خاتون

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار