خیبر پختونخوا میں علی بابا چالیس چوروں کی حکومت ہے: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوامی خدمت کا نام و نشان نہیں، یہاں تو لگتا ہے گویا علی بابا اور چالیس چوروں کا راج قائم ہے، جو قومی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہوئی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہ صرف اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہیں بلکہ عوامی مسائل سے بھی مکمل طور پر لاتعلق نظر آتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع کی حالتِ زار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، صوبے کا خزانہ خالی ہے، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ وفاق کو قرضہ دینے کے دعوے کر کے خود کو مضحکہ خیز بنا رہے ہیں۔
گورنر نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت شدت پسندوں کی پشت پناہی کا سلسلہ بند کرے تو صوبے میں فوری امن قائم ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت بھارت سے ممکنہ جنگ کے ماحول کا ڈھول پیٹ کر دراصل این آر او حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن عوام اب سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے عوام کو ان کا جائز حق دیا جائے اور لوٹ مار کے اس سلسلے کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔