پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے 700 ارب پر شب خون مارا، گورنر
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈی آئی خان(مانیٹرنگ ڈیسک)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے 700 ارب روپے پر شب خون مارا ہے تاہم قبائلی اضلاع کے حقوق کے لیے وزیراعظم سے بات کی ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں محسود جرگہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کو اسکالر شپ کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں، پشتون قوم کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تمام قبائل کو ریاست سے متحد ہوکر بات کرنی ہوگی، قبائلی اضلاع کے تمام اقوام مشترکہ جرگہ بنا کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد سالانہ 700 ارب روپے کی فراہمی کا وعدہ پورا نہیں ہوا، ضم اضلاع کے 700 ارب پر صوبائی حکومت نے شب خون مارا ہے۔جرگے کے شرکا کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ میرا فرض تھا کہ آپ کی وکالت کروں عطا محمد کی بازیابی کے لیے میں نے کردار ادا کیا، وہ میرا فرض تھا، قبائلی عوام کے حقوق کے لیے میں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ہم سیاست نہیں کریں گے اور ان کے حقوق انہیں ادا کرنے ہوں گے۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے سے قبائلی علاقوں میں امن اور نوجوانوں کا مستقبل روشن ہو گا، صوبے میں قیام امن کے لیے سب کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ڈی آئی خان میں منعقدہ جرگے میں جنوبی وزیرستان اپر کے محسود، برکی اور بیٹنی قبائل کے اکابرین شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قبائلی اضلاع کے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔