Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:50:51 GMT

پی ایس ایل 11، اپریل مئی 2026 میں میلہ سجنے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

پی ایس ایل 11، اپریل مئی 2026 میں میلہ سجنے کا امکان

کراچی:پی ایس ایل 11 کا بھی 10 ویں ایڈیشن کی طرح آئندہ برس اپریل، مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ میلہ سجنے کا امکان ہے، اس صورت میں زمبابوے سے ہوم سیریز ری شیڈول کرنا ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کا انعقاد روایتی طور پر فروری ، مارچ میں ہوتا ہے مگر رواں برس ملک میں منعقدہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی وجہ سے ایونٹ اپریل اور مئی میں ہوا،اس دوران آئی پی ایل سے تاریخوں کا تصادم بھی رہا۔

آئندہ برس فروری، مارچ میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ شیڈول ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی لیگ کے لیے نئی تاریخوں کا تعین کرنا ہوگا، دسمبر، جنوری میں انعقاد کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن کئی اہم امور حل طلب ہونے کی وجہ سے اتنی جلدی انعقاد دشوار لگنے لگا۔

اس ونڈو میں پی سی بی اسٹار کرکٹرز کی شمولیت سے ڈومیسٹک پینٹنگولر کپ منعقد کر سکتا ہے، رواں برس ہی پی ایس ایل کو الگ کمپنی بنانے کا اعلان ہوا تھا، سلمان نصیر بطور سی ای او کام شروع کر چکے ہیں، البتہ ابھی دیگر شعبوں میں کوئی بڑی تقرری نہیں ہوئی،10 ایڈیشن مکمل ہونے کے بعد اب موجودہ 6 فرنچائز ٹیموں کی ویلیویشن ہوگی جس کے بعد 25 فیصد تک فیس میں اضافہ متوقع ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں ہی تمام ٹیموں نے تحریری طور پر ملکیت برقرار رکھنے کا کہہ دیا تھا، البتہ بعد میں ملتان سلطانز کے اونر علی ترین مسلسل مالی نقصان کا رونا روتے رہے،کچھ عرصے سے وہ خاموش ہیں لہذا واضح نہیں ہو سکا کہ وہ ٹیم اپنے پاس رکھیں گے یا دوبارہ بڈنگ کی جانب جائیں گے،ابھی سب سے مہنگی اس ٹیم کی سالانہ ایک ارب روپے سے زائد فیس ادا کی جاتی ہے۔

اسی طرح بورڈ نے 11 ویں ایڈیشن سے 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،ذرائع نے بتایا کہ ٹائٹل اسپانسر شپ کے 10 سالہ معاہدے کی بھی تجدید ہونا ہے، گراؤنڈ اسپانسر شپ کی 8 سے 10 کیٹیگریز، براڈ کاسٹ کے ملکی اور بین الاقوامی الگ کنٹریکٹس ہوں گے۔

اسی طرح لائیو اسٹریمنگ کا بھی نیا معاہدہ ہونا ہے،اس وقت ٹائٹل اسپانسر شپ سے پی سی بی کو تقریبا 90 کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں، گذشتہ برس پاکستان کے لائیو اسٹریمنگ رائٹس تقریبا ایک ارب80 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے، لوکل براڈ کاسٹ  سے تقریبا 6 ارب 30 کروڑ جبکہ انٹرنیشنل سے4.

6 ملین ڈالر ملے۔

گراؤنڈ رائٹس2 سال کیلیے تقریبا 2 ارب میں بکے، ٹی وی پروڈکشن کیلیے پی سی بی نے 2 سال کا2.25 ملین ڈالر سالانہ کا معاہدہ کیا تھا، ان سب کیلیے ٹینڈرز جاری ہوں گے پھر طویل پراسس کا آغاز ہوگا،موجودہ فارمیٹ برقرار رہنے پر2 نئی ٹیموں کی شمولیت سے پی ایس ایل کے میچز کی تعداد 34 بڑھ کر 54 ہو جائے گی۔

اس طرح تمام معاہدوں کی ویلیو تقریبا 30 فیصد تک بڑھ جائے گی، البتہ ابھی یہ فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ 2 نئی ٹیموں کو کیا موجودہ فنانشل ماڈل کی طرح حصہ دیا جائے گا یا کوئی نیا طریقہ استعمال ہوگا،اس حوالے سے موجودہ فرنچائزز کے ذرائع نے بتایا کہ ابھی بورڈ نے ہم سے نئی ٹیم کے حوالے سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا فنانشل ماڈل تو بہت دور کی بات ہے۔

11 ویں ایڈیشن کی تاریخیں فائنل نہیں ہیں تاہم آئندہ برس اپریل،مئی میں انعقاد ممکن لگتا ہے،ہم نے لیگ کے اہم امور پر بات کرنے کیلیے پی ایس ایل گورننگ کونسل کی میٹنگ طلب کرنے کیلیے ایک مشترکہ ای میل بھیجی  تھی، عید کی تعطیلات کے بعد کوئی جواب آنا متوقع ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم کی نومبر میں سری لنکا کیخلاف3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ہوم سیریز ہے، دسمبر اور جنوری کی ونڈو ڈومیسٹک ایونٹ کی وجہ سے خالی رکھی گئی، فروری میں آسٹریلوی ٹیم3 ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کیلیے دورہ کرے گی۔

فروری، مارچ میں ورلڈ کپ ہوگا، مارچ میں ہی آسٹریلیا کو3 ون ڈے میچز کیلیے دوبارہ آنا ہے، اسی ماہ کے اواخر اور اپریل میں پاکستانی ٹیم کا2 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کیلیے دورئہ بنگلہ دیش طے ہے، اپریل، مئی میں زمبابوے کی ٹیم کا 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی 20 میچز کیلیے پاکستان ٹور شیڈول ہے۔

اپریل،مئی میں پی ایس ایل کرانے کیلیے پی سی بی کو زمبابوے سے ہوم سیریز ری شیڈول کرنا ہو گی۔ ذرائع کے مطابق فرنچائزز کو آئی پی ایل سے تاریخوں کے تصاوم کی وجہ سے جو خدشات تھے 10 ویں ایڈیشن کے بعد وہ کم رہ گئے، البتہ براڈ کاسٹرز و رائٹس ہولڈرز کی رائے مختلف ہے، آئندہ برس اپریل اور مئی میں آئی پی ایل کے ساتھ ہی پی ایس ایل کا انعقاد ممکن ہے تاہم حتمی فیصلہ کچھ عرصے بعد کیا جائے گا۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل ویں ایڈیشن پی ایس ایل ٹی ٹوئنٹی کی وجہ سے پی سی بی میچز کی نئی ٹیم کے بعد

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف