پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی روپے فی لیٹر اضافی کاربن لیوی لگانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل کے استعمال پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور پاور سیکٹر میں فرنس آئل کے استعمال یکساں ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز دی ہے جسے آئندہ سال بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کیا جائے گا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت کو کاربن لیوی کی مد میں آئندہ مالی سال 10 ارب روپے کی وصولیاں ہوں گی جو پیٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد لیوی کی مد میں کی جانے والی 1468 ارب روپے کی لیوی کے علاؤہ ہیں۔
صارفین کے مطابق ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں جبکہ ملک میں کہیں بھی چارجنگ کا انفرااسٹرکچر موجود نہیں اور بجلی نایاب و مہنگی ہے ایسی صورت میں کاربن لیوی کا نفاذ عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔
صارفین نے کہا کہ حکومت پہلے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو عوام کی قوت خرید میں لائے اور چارجنگ انفرا اسٹرکچر مہیا کرے اس سے قبل ماحولیاتی تحفظ کے نام پر عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے فی لیٹر کاربن لیوی
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔