سولر پینک اور آن لائن خریداری پر 18 فییصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد، حکومت پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
تاجر برادری نے آن لائن خریداری اور سولر پینل پر 18 فیصد ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر کی خریداری اور آن لائن خریدو و فروخت پر 18 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
حکومت کی اس تجویز کو کاروباری حلقے نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کو مسترد کردیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری طبقے کے لیے غیر مؤثر اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔
صدر فیڈریشن عاطف اکرام شیخ نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے چند تجاویز کو شامل کیا ہے، تاہم کئی اہم سفارشات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے کی حالت انتہائی خراب ہے، کیونکہ فصلوں کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی کے باوجود معاشی استحکام کے لیے شرح سود کو کم از کم 7 فیصد تک لانا ضروری ہے، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو سہارا مل سکے۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ بجلی پر سبسڈی کے لیے کچھ فنڈز مختص کیے گئے ہیں، لیکن ان فنڈز کو کس طریقے سے خرچ کیا جائے گا، یہ اب تک واضح نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس فارم کو آسان بنانے کی ہماری تجویز کو تسلیم کر لیا گیا ہے، لیکن ہم نے اس میں تاحال کوئی عملی تبدیلی نہیں دیکھی۔ فیڈریشن نے سپر ٹیکس کو نصف کیے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت اقدام ہے، جبکہ حیدرآباد-سکھر موٹروے کے لیے بجٹ مختص کیے جانے کو بھی معیشت کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔
کراچی میں سینئر نائب صدر ثاقب فیاض نے فیڈریشن ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں کی شرح میں مناسب اضافہ ضروری ہے، تاکہ قومی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے پراپرٹی کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور ایف ای ڈی کے خاتمے کو فیڈریشن کے دیرینہ مطالبات کی کامیابی قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے الٹرنیٹ انرجی پالیسی کے باوجود سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے، جس سے ان کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور یہ فیصلہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے حکومتی دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
ثاقب فیاض نے سیونگ انکم پر ٹیکس میں اضافے کو غیر دانشمندانہ اقدام قرار دیا، جب کہ صنعتی خام مال کی درآمد کے لیے کسٹمز پری کلیئرنس کے اقدام کو سراہا، جو صنعتوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
فیڈریشن نے ای کامرس پر سیلز اور پرچیز پر ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بے روزگار نوجوانوں کے لیے آمدنی کے ذرائع محدود ہو جائیں گے، جو آن لائن کاروبار کے ذریعے گزر بسر کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوکل انڈسٹری سے EFS کا خاتمہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا، جو بجٹ میں تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ ایکسپورٹرز کو فکس ٹیکس رجیم میں نہ لانا بھی ایک بڑی کوتاہی ہے۔ البتہ فیڈریشن نے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے فیصلے کو درست قرار دیا، جبکہ فاٹا اور پاٹا میں 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کو قابل قبول قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگانا غیر منصفانہ قرار دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے قرار دیا پر ٹیکس کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔