آن لائن خریداری پر اب کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی حکومت نے آن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں آن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز کی تیزی سے ترقی نے ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والے روایتی کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیاری مسابقتی فضا پیدا کرنے اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ای کامرس پلیٹ فارمز کی طرف سے ترسیل کرنے والے کورئیر اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والے ادارے 18 فیصد کی شرح سے ان ای کامرس پلیٹ فارمز سے سیلز ٹیکس وصول کرکے حکومت کو جمع کرائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اور روایتی کاروبار کے درمیان ٹیکس کے معاملے میں توازن پیدا کرنا ہے تاکہ تمام کاروباری ادارے یکساں شرائط پر کام کر سکیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آن لائن خریداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس شعبے سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوگا، تاہم اس کا آن لائن شاپنگ کرنے والے صارفین پر کس حد تک اثر پڑے گا، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لائن خریداری سیلز ٹیکس کرنے والے آن لائن
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز