اسرائیل نے غزہ تک امداد لیجانے کی کوشش کرنے والی گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی وزارت خارجہ نے غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی و سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کردیا۔
دو روز قبل اسرائیلی بحریہ نے انسانی امداد لے کر غزہ کی جانب روانہ ہونے والی کشتی میڈلین کو بین الاقوامی سمندری حدود میں گھیر کر زبردستی روک لیا تھا، اس کارروائی کے دوران کشتی پر سوار تمام 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان میں فرانس، جرمنی، برازیل، ترکی، اسپین اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکن شامل تھے، جو محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کے روز عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی و سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ کی جبری ملک بدری کا اعلان اس وقت کیا، جب اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتی میڈلین کو اپنی تحویل میں لے لیا، گریٹا تھنبرگ بھی اس کشتی کے عملے کا حصہ تھیں، جو فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر جاری کی، جس میں گریٹا تھنبرگ کو ایک طیارے میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ گریٹا تھنبرگ فرانس کے راستے سوئیڈن جانے والی پرواز میں ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گریٹا تھنبرگ اور ان کے تین ساتھی کارکنوں نے رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کر دی جبکہ باقی آٹھ افراد نے جبری ملک بدری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزارت خارجہ نے گریٹا تھنبرگ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں