حکومت کاتنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی کابینہ نے فنانس بل کی منظوری دے دی۔ وفاقی بجٹ 2025-26 میں حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے فیصلہ کیا ہے۔
فنانس بل کے مطابق 6 لاکھ تک تنخواہ دار ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ 6 لاکھ سے 12لاکھ تک تنخواہ لینے والے 1 فیصد ٹیکس ادا کریں گے، 12 لاکھ روپے سے22 لاکھ روپے تک 11 فیصد اضافی ٹیکس دینگے۔
فنانس بل میں کہا گیا کہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک فکس ٹیکس 1لاکھ 16 ہزار، 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک 23 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرناہوگا، 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر فکس ٹیکس 3 لاکھ 46 ہزارروپے ہے۔
فنانس بل کے مطابق 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 30 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرینگے، 41 لاکھ سے اوپر سالانہ تنخواہ پر 6 لاکھ 16 ہزارفکس ٹیکس ہے۔ 41 لاکھ سے اوپر سالانہ تنخواہ پر 35 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں3.
3شدت کازلزلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سالانہ تنخواہ پر فیصد اضافی ٹیکس لاکھ روپے ٹیکس ادا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔