بجٹ 26-2025 تجاویز منظور، تنخواہ داروں نے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا، وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اشرافیہ کو اس بات کا جواب دینا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ان سے زیادہ ٹیکس بھر رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سوا سال میں جن سنگین حالات کا پوری قوم نے سامنا کیا وہ کسی بھی لحاظ سے معمولی نہیں، عام آدمی نے جتنی قربانیاں دی ہیں اور تنخواہ دار طبقے نے جو بوجھ اٹھایا ہے، اس سے اس عرصے میں پاکستان ایسے مقام پر آگیا ہے جہاں سے اسے پرواز بھرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کو اس بات کا جواب دینا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ان سے زیادہ ٹیکس بھر رہا ہے۔آج کے بجٹ کے بعد معاشی نمو کی طرف بڑھنا ہے۔ اگر جذبہ ہو تو ہم معاشی میدان میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے بجٹ 2025-2026 کی منظوری دیدی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ پنشنرز کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔