مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف—فائل فوٹو

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کسان اتحاد نے وفاقی حکومت بالخصوص پنجاب میں ترقی کے جھوٹے دعوؤں کو بےنقاب کر دیا۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک سال میں صرف گندم کے کاشتکاروں کو 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا، وفاقی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے باعث زرعی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ گندم کی پیداوار میں گزشتہ سال نسبت کی 8.

91 فیصد کمی ہوئی، کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد،مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد کمی ہوئی۔

وزیراعظم اور وزیر خزانہ ایک پیج پر نہیں، بیرسٹر سیف

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک پیج پر نظر نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں فوڈ امپورٹ بل 7 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے، زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وفاقی حکومت اس ریڑھ کی ہڈی کو دبا کر ترقی کے جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ بااثر کسان دشمن افراد آج بھی وفاق اور پنجاب کے اہم عہدوں پر قابض ہیں، پنجاب میں کسان رل رہے ہیں لیکن مریم نواز کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے گزشتہ سال پنجاب کے کسانوں کے زخموں پر مرہم رکھا تھا، پنجاب کے کسانوں سے گندم نہ خریدتے تو شاید آج پیداوار اس سے بھی کم ہوتی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت پیداوار میں بیرسٹر سیف نے کہا

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ