ملک میں گاڑیوں اور موبائل فون کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
حکومت نے اقتصادی سروے 2025-26 میں مختلف اعدادو شمار جاری کیے ہیں، سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستانی سڑکوں پر رواں دواں گاڑیوں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 86 لاکھ ہے، ملک میں موجود موبائل فونز کی مجموعی تعداد 19 کروڑ 75 لاکھ ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق ایک سال میں موبائل فونز کی تعداد میں 50 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گاڑیوں کی تعداد میں 12 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پاکستانی سڑکوں پر رواں گاڑیوں کی تعداد میں میں 10 سالوں میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے، سال 2013-14 کے سروے کے مطابق ملک بھر میں گاڑیوں کی تعداد 1 کروڑ 32 لاکھ تھی جو کہ اب 3 گنا بڑھ کر 3 کروڑ 86 لاکھ ہو گئی ہے۔ 2016-17 میں یہ تعداد 1 کروڑ 56 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 19 لاکھ ہو گئی، ایک سال میں گاڑیوں کی تعداد میں 63 لاکھ کا یہ اضافہ ریکارڈ تھا۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک بھر میں موجود موبائل فونز کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، 2000 کی دہائی میں ملک بھر میں موجود موبائل فونز کی تعداد 3 کروڑ 66 لاکھ تھی، اس تعداد میں ہر سال 50 لاکھ سے ایک کروڑ کا اضافہ ہوتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
سال 2014-15 میں موبائل فونز کی تعداد 11 کروڑ 47 لاکھ تھی جو کہ اب بڑھ کر 19 کروڑ 75 لاکھ ہو گئی ہے، رواں مالی سال کے دوران مارچ 2025 تک موبائل فونز کی تعداد میں 50 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی تعداد 19 کروڑ 75 لاکھ ہو گئی ہے، سال 2020-21 کے دوران موبائل فونز کی تعداد میں سب سے زیادہ ایک کروڑ 56 لاکھ فونز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: موبائل فونز کی تعداد میں گاڑیوں کی تعداد اضافہ ہوا ہے لاکھ ہو گئی کا اضافہ اضافہ ہو لاکھ کا
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔