آئی ایم ایف نے وزارت توانائی کا انرجی پیکج مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف نے وزارت توانائی کا صنعتوں کیلئے تین سالہ مارجنل انرجی پیکیج مسترد کر دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت توانائی کے حکام آئی ایم ایف کو مارجنل انرجی پیکیج پر متفق کرنے میں ناکام رہے۔ آئندہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں نئی تجاویز کے ساتھ دوبارہ پیکیج تیار کرکے بات چیت ہوگی۔ مارجنل کاسٹ پر اے آئی، ڈیٹا مائننگ اور انڈسٹری کیلئے 3 سال کے لئے انرجی پیکج تھا۔ بجلی کے استعمال پر صرف پیداواری لاگت اور کیپسٹی چارجز کی رقم عائد ہونا تھی۔ پیداواری لاگت اور کیپسٹی چارجز کے علاوہ باقی تمام بشمول ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز تھی۔ ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف نے مارجنل پیکج کے منظوری سو فیصد ریکوری سے منسلک کر دی ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ٹریڈرز کی تعداد میں 50 ہزار نئے افراد کو رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایف بی آر کے پاس اس وقت سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ تاجروں کی تعداد 2 لاکھ ہے۔ اَن رجسٹرڈ ٹریڈرز پر عائد 4 فیصد اضافی ٹیکس ختم کرنے کی تجویز آئی ایم ایف نے مسترد کر دی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 4 فیصد اضافی ٹیکس ختم کرنے کیلئے ٹریڈرز کو رجسٹر کیا جائے۔ ایف بی آر کی اَن رجسٹرڈ انڈسٹریل بجلی کنکشنز بند کرنے کی سکیم فیل ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال 837 ارب روپے کی سیلز ٹیکس فیک فلائنگ انوائس جنریٹ کرنے کا انکشاف ہوا۔ مالی سال 2024 میں 1 ہزار 373 ارب کی سیلز ٹیکس فیک فلائنگ انوائس کی کوشش کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کرنے کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔