سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے فنانس بل اور تاجروں کے تحفظات پر بریفنگ دی، ایف بی آر نے رجسٹرڈ کاروباروں کیلئے کیش ٹرانزیکشنز پر لِمٹ 2 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسلام ٹائمز۔ ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا نے 16 سو 84 بار ڈیٹا ہیک کرنے کی کوشش کی، پرال نے ایف بی آر کا ڈیٹا چوری کرنے کیلئے 1684 بار ڈیٹا ہیک کرنے کوشش کو ناکام کیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے فنانس بل اور تاجروں کے تحفظات پر بریفنگ دی، ایف بی آر نے رجسٹرڈ کاروباروں کیلئے کیش ٹرانزیکشنز پر لِمٹ 2 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس وقت ایف بی آر نے رجسٹرڈ کاروباروں کیلئے کیش ٹرانزیکشنز پر لِمٹ  2 لاکھ کی عائد کر رکھی ہے، ایف بی آر کے پاس 2 لاکھ رجسٹرڈ ٹریڈرز ہیں، رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی تعداد 30 ہزار ہے۔

ممبر آپریشن ایف بی آر حامد عتیق نے بتایا کہ ایف بی آر کو سالانہ 80 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن فائل ہو رہی ہے، ایف بی آر افسران بزنس پرمسز میں رشوت، کھانا یا سونے کی جگہ بھی مانگے تو معطل ہو گا۔ حکام کے مطابق اس وقت تقریباً 400 بزنس پرمسز پر ایف بی آر کی 9 سو افسران کی ٹیم مانیٹرنگ کیلئے تعینات ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ملک میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت گیس، بجلی، پانی کی قیمتیں کاروبار کیلئے زیادہ ہیں، لوکل یارن پر سیلز ٹیکس کے باعث درآمدی یارن لا رہے ہیں جس پر کلائنٹ مطمئن ہے۔

ممبر آپریشنز ایف بی آر حامد عتیق سرور نے کہا کہ ملک میں کاٹن کی پیداوار میں ہر سیزن میں ویسے ہی کمی ہو رہی ہے، کارگوز کی کلئیرنس کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ رسک مینجمنٹ سسٹم یوکے کے تعاون سے ایف بی آر کسٹمز کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کا معاہدہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایف بی آر کرنے کی

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا