نان فائلر گاڑی، جائیداد نہیں خرید سکیں گے،بینک اکاؤنٹ نہیں کھلے گا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے کہاہے کہ نان فائلر گاڑی، جائیداد نہیں خرید سکیں گے، بینک اکاؤنٹ نہیں کھلے گا۔قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکرتےہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ انکم ٹیکس کے حوالے سے ایک نیا کلاسفیکیشن سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں فائلر اور نان فائلر کے فرق کا خاتمہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ اپنے گوشوارے اور اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کروائیں گے صرف وہی بڑے مالیاتی لین دین کر سکیں گے جن میں گاڑیوں اور غیر منقولہ جائیدار کی خریداری، سکیورٹیز اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری اور بعض بینک اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت جیسی چیزیں شامل ہیں۔
وفاقی بجٹ میں آئن لائن شاپنگ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
وزیر خزنہ نے بتایا کہ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس کی تیزی سے ترقی نے ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والے روایتی کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔
معیاری مسابقتی فضا پیدا کرنے اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ ای کامرس پیلٹ فارمز کی طرف سے ترسیل کرنے والے کوریئر اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والے ادارے 18 فیصد کی شرح سے ان پلیٹ فارمز سے سیلز ٹیکس وصول کرکے جمع کرائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔