رحیم یار خان، 13 سالہ گھریلو ملازمہ تشدد سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
فائل فوٹو
رحیم یار خان کے علاقے گلشن اقبال میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ تشدد سے جاں بحق ہوگئی، پولیس نے جاں بحق ہونے والی بچی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق 13 سالہ گھریلو ملازمہ سمیہ نواحی علاقے کوٹلہ پٹھان کی رہائشی تھی۔
سمیعہ گزشتہ تین سال سے گلشن اقبال کے علاقے میں شہرام نامی شخص کے گھر پر گھریلو ملازمہ تھی بچی کی موت میاں بیوی کے تشدد سے ہوئی۔
بچی کی موت کے بعد والدہ کو گھر پر سمیہ کی اچانک موت کی اطلاع دی گئی بچی کی لاش کو کفن میں لپیٹ کر رات کے اندھیرے میں ماں کےحوالے کیا گیا بیٹی کی لاش کو گھر پہنچ کر ماں نے دیکھا تو جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔
بچی کی ماں نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے ملزم میاں بیوی کو چھاپا مارکارروائی کے دوران گرفتار کرلیا ،،بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی ،، پولیس کا کہنا ہے ابتدائی میڈیکل میں بچی کے جسم پر سر سے پیروں کے تک بد ترین تشدد کے نشانات ملے ہیں،،
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گھریلو ملازمہ بچی کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔