میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ملازمین نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ پر حکومتی موقف سے متفق نہ ہونے والے فارن آفس کے ملازمین مستعفی ہونے پر غور کرسکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فارن آفس کے 300 سے زائد ملازمین نے غزہ پر اسرائیلی طرز عمل کے حوالے سے حکومتی تعاون پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملازمین نے اپنے خدشات کا اظہار فارن سیکریٹری ڈیوڈ لیمی کے نام ایک خط میں کیا تھا۔ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ملازمین نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔

فارن آفس کا کہنا ہے کہ عملے کے پاس تحفظات کے اظہار کا نظام موجود ہے، غزہ میں جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ فارن آفس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومتی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے سول سروس سے مستعفی ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 2023ء کے بعد سرکاری ملازمین کے طرف سے وزراء، دفتر خارجہ کے منیجرز کو تحفظات کے حوالے سے یہ چوتھا خط لکھا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملازمین نے فارن آفس

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا