محکمۂ لائیو اسٹاک کے پی کی آڈٹ رپورٹ میں 80 گاڑیاں غائب ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
خیبر پختون خوا کے محکمۂ لائیو اسٹاک سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں 80 گاڑیاں غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پشاور سے آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری گاڑیاں منصوبوں کے لیے خریدی گئی تھیں، 2007ء سے 2021ء تک لائیو اسٹاک پروجیکٹس کے لیے 200 سے زائد گاڑیاں خریدی گئی تھیں۔
دستاویز کے مطابق آڈٹ کے دوران 80 گاڑیوں کا ریکارڈ پیش نہ کیا جا سکا، محکمۂ ایکسائز کا کہنا ہے کہ 80 سے زائد گاڑیاں ڈی جی لائیو اسٹاک کے نام رجسٹرڈ ہیں، رجسٹریشن کے باوجود غائب گاڑیاں فیلڈ یا دفاتر میں موجود نہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں محکمۂ لائیو اسٹاک کی گاڑیوں کا پتہ لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
صوبائی وزیرِ لائیو اسٹاک فضل حکیم نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ گاڑیوں کی ریکوری کے لیے لیٹرز جاری کر دیے گئے ہیں، سیکریٹری لائیو اسٹاک کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لائیو اسٹاک ا ڈٹ رپورٹ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔